Fazail e Maah e Safar
ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا قمری مہینہ ہے۔ یہ مہینہ انسانیت میں زمانہ جاہلیت سے ہی منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا ہے، زمانہ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی، بیاہ اور ختنہ وغیرہ) قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے۔ یعنی زمانہ جاہلیت سے لوگ صفر کے مہینے کے متعلق مختلف قسم کے توہمات کا شکار ہیں اور آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بہت سے مسلمان ماہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں اور ان کے ذہنوں میں مختلف خیالات جمے ہوئے ہیں اور جیسے ہی یہ مہینہ شروع ہوتا ہے، نادانوں کی جانب سے اس مہینے سے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیوں پر مشتمل پیغامات پھیلائے جاتے ہیں۔
آج کل کے مسلمان اسلامی تعلیمات کی کمی کی وجہ سے اس ماہ مبارک کو منحسوس سجھنتے ہیں اور سوچتے ہیں اس ماہ مبارک میں بیماریاں، بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ حالانکہ سرکار دو عالم ﷺ نے اس کی نفی فرمائی ہوئی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوت چھات (بیماری کا دوسرے سے لگنے کا وہم) اور اُلو (کو منحوس سمجھنے) اور صفر (کے مہینہ کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (صحیح البخاري: (بابُ لاَ صَفَرَ، وَهُوَ دَاءٌ يَأُخُذُ الُبَطُن، رقم الحدیث: 5717)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بڑے واضح انداز میں تو ہم پرستی، چھوت چھات اور صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے کی نفی فرمائی ہے، لہذا کسی وقت اور زمانے میں کوئی نحوست اور برائی نہیں ہے۔
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔ (صحیح البخاري: (رقم الحدیث: 7491) صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 5863)
لہذا پتہ چلا کہ نحوست کی اصل وجہ زمانہ وغیرہ نہیں ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے اور نہ کوئی مہینہ، بلکہ نحوست کی اصل وجہ انسان کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جو مصیبت بھی تم پر پڑتی ہے، وہ تمہارے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت نمبر: 30)
بعض لوگ صفر کے مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات منعقد نہیں کرتے اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ صفر میں کی ہوئی شادی صِفر (زیرو) اور ناکام ہوجاتی ہے اور ربیع الاول کے مہینہ سے اپنی تقریبات شروع کر دیتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ صفر کے مہینے کو نامبارک اور منحوس سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔
ماہ صفر کے آخری بدھ کو نماز ادا کی جاتی ہے، جس کی ادائیگی کا ایک مخصوص طریقہ یہ بیان کیا جاتا ہے، کہ ماہِ صفر کے آخری بدھ دو رکعت نماز، چاشت کے وقت، اس طرح ادا کی جائے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ﴿قُل اللّٰھُمَّ مَالِکَ الُمُلُکِ﴾ دو آیتیں پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ﴿ قُل ادُعُوا اللہَ أوِ ادُعُوا الرَّحُمٰنَ﴾ دوآیتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد نبیِ اکرم ﷺ پر درود بھیجیں اور دعا کریں۔
اس طریقہ نماز کی تخریج کے بعد حضرت علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ........
