Sachai Ka Mayar, Baat Ya Shakhsiyat?
عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہم مارکیٹ میں اپنی ضرورت کی چیز جب لینے جاتے ہیں، تو اس کے معیار کو پرکھنے اور جانچنے کے لیے چیز کو دیکھتے ہیں نہ کہ دکان یا دکاندار کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں آ کر ہر کوئی دانشور محسوس ہوگا۔ بھلے اس کا تعلق امرا سے ہو کہ غربا سے، وہ پڑھا لکھا ہو یا چٹا ان پڑھ۔ چیز خریدتے وقت اسے فکر یہی لاحق ہوگی کہ یہ چیز کہیں ناقص نہ ہو، غیر معیاری یا گھٹیا نہ ہو۔ کوئی خریدار خریداری کے وقت یہ نہیں دیکھے گا کہ چونکہ فلان دکان یا فلاں دکاندار سے یہ شے خریدی ہے، تو ٹھیک ہی ہوگی۔ جب چیز لیتے وقت ہم اس کے معیار کو پرکھتے ہیں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہی رویہ خیالات کو قبول کرتے وقت کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ کیوں ہم فرض کر لیتے ہیں کہ فلاں شخصیت کے قلم سے نکلا ہر لفظ........
