menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rishte Na Hon To?

23 0
20.09.2026

کبھی کبھی انسان اپنے ہی رشتوں سے اتنا تھک جاتا ہے کہ دل کے کسی کونے سے ایک سوال اٹھتا ہے: "اگر رشتے نہ ہوں تو؟"

نہ کسی کے رویے کی فکر ہو، نہ کسی کے بدلتے لہجوں کا دکھ، نہ کسی کے لیے بار بار خود کو سمجھانے کی ضرورت، نہ کسی کی ناراضی کا بوجھ، نہ کسی کے قریب ہو کر دور ہو جانے کی تکلیف۔

کتنا آسان لگتا ہے نا؟ بس انسان ہو، اپنی زندگی ہو، کوئی کسی سے کوئی توقع نہ رکھے اور کوئی کسی کو دکھ نہ دے۔ لیکن شاید ہم بھول جاتے ہیں کہ رشتے صرف وہ لوگ نہیں ہوتے جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں۔ رشتے وہ بھی ہیں جو ہماری خاموشی پڑھ لیتے ہیں۔

جو ہمارے چہرے کی تھکن دیکھ کر پوچھتے ہیں: "کیا ہوا؟"

جن کی ایک دعا ہمارے لیے دنیا کی بہت سی آسائشوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے اور مشکل کہاں پیدا ہوتی ہے؟ مسئلہ شاید رشتوں سے نہیں، ہماری توقعات، ہماری کمزوریوں اور کبھی کبھی ایک دوسرے کے حقوق بھول جانے سے پیدا ہوتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں سمجھیں، مگر ہم ہمیشہ انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات کا خیال رکھا جائے، مگر دوسرے کے دل کا حال پوچھنا بھول جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے ہمیں سکون دیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم بھی کسی کے سکون کا سبب بننے کے ذمہ دار ہیں۔

رشتے صرف لینے کا نام نہیں۔ رشتے دینے کا نام بھی ہیں۔ وقت دینے کا۔ احترام دینے کا۔ معاف کرنے کا۔ سمجھنے کا اور کبھی کبھی اپنی انا کو خاموش کرنے کا۔ لیکن یہاں ایک بہت ضروری بات ہے۔ رشتہ نبھانے کے نام پر خود کو مٹا دینا بھی دین نہیں ہے۔

صبر بہت بڑی عبادت ہے، مگر صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر زیادتی کو اپنا مقدر سمجھ لے۔ نرمی اچھی ہے، مگر........

© Daily Urdu