Pardes Ke Asool
ہفتے کے پانچ دن میرا ٹھکانہ ہوسٹل ہوتا، لیکن ویک اینڈ آتے ہی دل خود بخود افتخار کشمیری کے فلیٹ کی طرف کھنچ جاتا، اب روسی زبان کی گھبراہٹ کافی حد تک ختم ہو چکی تھی، اعتماد بڑھ رہا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے بھی آہستہ آہستہ پَر پُرزے نکلنے لگے ہیں، اس تبدیلی کا سب سے بڑا سہرا افتخار کے سر جاتا تھا، وہ واقعی کمال آدمی تھا، سوا چھ فٹ قد، چوڑا سینہ، مضبوط جسم اور طبیعت میں بے پناہ بے باکی، خطرہ دیکھ کر گھبرانا شاید اس کی لغت میں تھا ہی نہیں، البتہ اس کی بہادری غنڈہ گردی نہیں بلکہ خود اعتمادی سے عبارت تھی۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد سیر کا پروگرام تقریباً روز کا معمول بن چکا تھا، کبھی ایونیو شاکاریما کی روشن سڑکوں پر نکل جاتے، کبھی کسی نئی گلی یا لینن پارک کا رخ کرتے، رات کی سیر میں کبھی کبھار ایسے حضرات بھی مل جاتے جنہوں نے بوتل سے اتنی گہری دوستی کر رکھی ہوتی تھی کہ سیدھی راہ چلتے لوگوں سے بِلا وجہ الجھ پڑتے، زیادہ تر معاملہ صرف نوک جھونک تک محدود رہتا، لیکن دو مرتبہ نوبت ہاتھا پائی تک بھی پہنچ گئی، ایسے نازک موقع پر افتخار کی حکمتِ عملی ہمیشہ ایک ہی ہوتی تھی، جونہی اسے محسوس ہوتا کہ سامنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، وہ پوری قوت سے چلاتا: "پولیس! پولیس!"
یہ لفظ سنتے ہی شرابی حضرات بھیگی بلی بن کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے اور ہم موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی تیزی سے نکل لیتے جیسے دوڑ کا مقابلہ جیتنے جا رہے ہوں، ڈینجر زون سے دور جا کر کافی دیر تک ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر ہنستے رہتے، افتخار ہمیشہ مسکراتے ہوئے کہتا۔
"عقل مند وہ نہیں جو ہر لڑائی لڑے، عقل مند وہ ہے جو صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرے"۔
یونیورسٹی میں مڈ سمسٹر کی چھٹیاں شروع ہوئیں تو یوں لگا جیسے پورے ہوسٹل میں عید اتر آئی ہو، کلاسوں اور اسائنمنٹوں سے وقتی نجات ملی........
