No Deal, Magar Kahani Abhi Baqi Hai
نو ڈیل، مگر کہانی ابھی باقی ہے
21 گھنٹے۔ ایران، امریکہ مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں۔ مگر کہانی ختم نہیں ہوئی۔
12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مختصر بات کی۔ ایکسیوز نے فوری خبر چلائی: "امریکہ ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم"۔
وینس نے کہا: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی"۔ پھر کہا: "ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے"۔
سوال پوچھا گیا: ایرانیوں نے کیا مسترد کیا؟ وینس نے تفصیل میں جانے سے انکار کیا مگر ایک بات واضح کی: "سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایران سے اس بات کا واضح عہد چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایسے آلات حاصل نہیں کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دیں۔ نہ صرف ابھی، نہ صرف دو سال بعد، بلکہ طویل مدت کے لیے۔ ہم نے ابھی تک یہ عہد نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ دیکھیں گے"۔
پھر وینس نے ایک اور جملہ کہا: "ہم کافی لچکدار تھے، کافی معاون تھے۔ صدر نے ہمیں کہا تھا کہ نیک نیتی سے جاؤ اور معاہدے کے لیے پوری کوشش کرو۔ ہم نے کیا۔ مگر ہم آگے نہیں بڑھ سکے"۔
اب اس بیان کو پڑھیں۔ الفاظ تولے ہوئے ہیں۔ وینس نے کئی پیغام دیے ہیں بیک وقت:
پہلا: پاکستان کو مکمل عزت دی۔ "شاندار میزبان" کہا۔ "ناکامی ان کی وجہ سے نہیں" کہا۔ یہ سفارتی زبان میں اعلان ہے کہ امریکہ پاکستان کے ثالثی کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے سے آئے........
