menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hossein Dehghan, Naam Yaad Rakhen

38 0
22.03.2026

حسین دہغان۔ نام یاد رکھیں

اصفہان کے ضلع دہاقان میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، پودہ۔ دو مارچ انیس سو ستاون کو وہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ حسین دہغانی پودہ۔ نام میں گاؤں کا نام شامل ہے۔ یہ بندہ اپنی مٹی کا نام کبھی نہیں چھوڑتا۔

نہ خاندان نامور۔ نہ جاگیر۔ نہ سیاسی وراثت۔ ایک عام دیہاتی گھرانہ۔ لڑکے نے پہلے دھات سازی میں ماسٹرز کیا۔ پھر تہران یونیورسٹی سے مینجمنٹ سائنسز میں پی ایچ ڈی کی۔ دھاتیں پگھلانے والا آدمی بعد میں ریاستیں پگھلانے لگا۔ مگر یہ بات بعد کی ہے۔

انیس سو اناسی۔ خمینی انقلاب۔ حسین دہغان بائیس سال کا ہے۔ تہران یونیورسٹی کا طالب علم۔ انقلاب آتا ہے تو کتابیں رکھ کر پاسداران انقلاب میں شامل ہو جاتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں۔ جب تنظیم بن رہی تھی، ڈھانچہ کھڑا ہو رہا تھا، اسی وقت۔

چار نومبر انیس سو اناسی۔ تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا۔ باون امریکی سفارتکار یرغمال بنائے گئے۔ چار سو چوالیس دن قید رکھا گیا۔ حسین دہغان اس حملے میں شریک تھے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بعد میں ان کی تصویر شائع کی جس میں وہ آنکھوں پر پٹی بندھے ایک امریکی سفارتکار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انقلابی اسناد کے طور پر۔ گویا یہ تصویر ان کا تعارف نامہ ہے۔

اس کے فوراً بعد تیئس سال کی عمر میں پاسداران انقلاب کے تہران ڈویژن کا کمانڈر بنا دیا گیا۔ انیس سو اسی سے بیاسی تک۔ اس دور میں نئی اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کے خلاف سخت کارروائی ہوئی۔ دہغان اس کارروائی کی نگرانی کرنے والوں میں شامل تھے۔ بہت سے مخالفین کو سزائے موت دی گئی۔

یہاں ایک لمحہ رک کر سوچو۔ تیئس سال کی عمر۔ دارالحکومت کا فوجی کمانڈر۔ زندگی اور موت کے فیصلے۔ دنیا کے بیشتر نوجوان اس عمر میں یونیورسٹی کی ڈگری لے رہے ہوتے ہیں۔ یہ بندہ ریاست کے دشمنوں کا فیصلہ کر رہا تھا۔

انیس سو بیاسی۔ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا۔ ایران نے دہغان کو لبنان اور شام بھیج دیا۔ وادی بقاع میں۔ عمر پچیس سال۔ وہاں پاسداران انقلاب کی تربیتی فورس کا کمانڈر بنا۔ اسی دور میں جو تنظیم بن رہی تھی جسے بعد میں دنیا حزب اللہ کے نام سے جانے لگی، اس کی بنیاد رکھنے والوں میں دہغان کا نام آتا ہے۔ اس نے حزب اللہ کو پاسداران انقلاب کے سانچے میں ڈھالا۔ حسن لقیص کو اپنا بیورو چیف مقرر کیا جو آگے چل کر حزب اللہ کے اعلیٰ ترین کمانڈرز میں شمار ہوئے۔

تیئس اکتوبر انیس سو تراسی۔ بیروت۔ صبح کا وقت۔ امریکی بحری پیادہ فوج کی بیرکس پر ایک ٹرک بم پھٹا۔ دو سو اکتالیس امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی دن فرانسیسی فوجی بیرکس پر الگ حملہ ہوا۔ اڑسٹھ فرانسیسی مارے گئے۔ عالمی سیاست کا رخ بدل گیا۔ امریکہ کو لبنان سے نکلنا پڑا۔

یروشلم سینٹر فار پبلک افیئرز کے ماہر شمعون شپیرا کی تحقیق کے مطابق دہغان اور لقیص نے مل کر اس حملے کی منصوبہ بندی اور تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکی محکمہ........

© Daily Urdu