menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bachon Ka Social Media Aur Hazrat Umar e Farooq

13 1
08.02.2026

"حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں نہ سوشل میڈیا تھا، نہ AI، نہ اسکرینیں، مگر انسان کی فطرت وہی تھی۔ اس لیے انہوں نے بچوں کے ماحول، خوراک، علم، زبان اور حتیٰ کہ کہانی تک کو ریاستی ذمہ داری سمجھا۔ آج جب مغرب ایپسٹین جیسے سانحات کے بعد بچوں کے تحفظ کے قوانین بنا رہا ہے، تو ہمیں مان لینا چاہیے کہ اسلام نے یہ راستہ صدیوں پہلے دکھا دیا تھا"۔

"یہ کوئی نئی بحث نہیں۔ اسلامی تاریخ ہو یا مغربی فکر، ہر سنجیدہ تہذیب نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بچوں کے لیے علم، کہانی اور تفریح کو بغیر ضابطے کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام نے یہ اصول ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا، جبکہ مغرب تجربات، اسکینڈلز اور ایپسٹین جیسے سانحات کے بعد اب اس نتیجے پر پہنچا ہے"۔

آج کی دنیا بظاہر ترقی، ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے بلند دعوؤں سے بھری ہوئی نظر آتی ہے، مگر جب ان دعوؤں کی تہہ میں جھانکا جائے تو ایک گہرا اخلاقی اور تہذیبی بحران سامنے آتا ہے، خاص طور پر بچوں کے تحفظ کے معاملے میں۔ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI) اور حالیہ دنوں میں منظرِ عام پر آنے والی جیفرے ایپسٹین فائلوں نے مغربی دنیا کے نام نہاد معزز چہروں سے نقاب ہٹا دیا ہے۔

جب سچ سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو دنیا "شریف"، "مہذب" اور "خدا ترس" سمجھتی تھی، ان کے پیچھے کیسے گھناؤنے چہرے چھپے ہوئے تھے۔ یہ وہی دنیا ہے جو ہمیں اخلاقیات، آزادیٔ اظہار اور بچوں کے حقوق پر لیکچر دیتی........

© Daily Urdu