Rauf Klasra Jaisa Main Ne Inhen Dekha
رؤف کلاسرا ممتاز صحافی، کالم نگار اور ٹی وی اینکر ہیں۔ ان کی بڑی آڈینس اورریڈرشپ ہے۔ تین عشروں سے زیادہ انہیں جرنلزم میں ہوچکے ہیں۔ کلاسرا صاحب کا تعلق جیسا کہ بہت لوگ جانتے ہیں لیہ سے ہے، جیسل کلاسرا وہاں کا ایک گاوں ہے، سنا ہے کہ وہاں اب خاصے ترقیاتی کام ہوچکے ہیں، سڑکیں اور دیگر سہولتیں وغیرہ۔ مطلب رؤف صآحب نے اپنی جنم بھومی کو بھلایا نہیں اور اس کے لئے خاصا کچھ کیا۔
ویسے تو کلاسرا برادری کو بھی ان کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ یہ کلاسرا نام بھی انہوں نے ہی مشہور کیا ہے۔ کسی کے نام کے ساتھ کلاسرا لگا ہو، وہ کہیں بھی پاکستان میں، اوورسیز پاکستانیوں کے پڑھے لکھے طبقے میں اپنا نام بتائے تو لوگ اسے چونک کر دیکھیں گے اور رؤف کلاسرا کے ساتھ کسی تعلق، رشتے داری کا پوچھیں گے۔ رؤف کو دیکھ کر ان کےخاندان کے بعض نوجوان صحافت میں آئے، کئیوں کو انہوں نے خاصا سپورٹ کیا اور سیٹ ہونے میں مدد دی، یہ اور بات کہ اکثر ایسے تجربے ناخوشگوار نکلے اور جن پر احسان کیا، ان کےشر سےرؤف کلاسرا کو نقصان اور تکلیف پہنچی۔
رؤف کلاسرا میرے اچھے، پیارے عزیز دوست ہیں۔ ہم بے شک مہینوں آپس میں بات نہ کریں مگر دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ جب بھی کبھی رؤف کلاسرا کو آواز دی، وہ لبیک کہیں گے۔ میں تو خیر ماڑا سا آدمی ہوں، مجھ سے رؤف کو کبھی کام پڑ ہی نہیں سکتا، البتہ میں اپنے دوست کے لئے ہمیشہ دعا گو رہتا ہوں۔
ہمارے سیاسی اور فکری نظریات میں بھی اختلاف چلتا رہتا ہے، بعض امور پر ان کی اور میری رائے مختلف اور کہیں پر متضاد بھی ہے۔ ہم نے البتہ کوشش کی ہے کہ ان مختلف آرا کو اپنے تعلق پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے۔ میں نے بھی کئی بار کسی موضوع یا ایشو پر اس لئے نہیں لکھا کہ کہیں آپس میں بحث شروع نہ ہوجائے، مجھےلگتا ہے کہ یہی رؤف کلاسرا بھی کرتے ہیں، بہت بار وہ طرح دے جاتیں ہیں، حالانکہ وہ اپنے موقف کو مضبوطی اور دلیری سے بیان کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔
میں رؤف کلاسرا کی ایک بات کا بڑا قائل اور مداح ہوں کہ وہ ہر کسی کے کام آتے ہیں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ کسی انجان نوجوان نے بھی انہیں فون کیا یا کسی طریقے سے رابطہ کیا اور مدد کے لئے پکارا تو رؤف کلاسرا نے خاموشی سے کسی کو بتائے بغیر اس کا کام کر ڈالا۔ ہمارے ایک اور دوست جن کا تعلق بھی لیہ سے ہے، چند سال پہلے وہ ایک مشکل میں آگئے، ان کا بھانجا جو ہائی سکول کا طالب علم تھا اور میٹرک بورڈ کے پیپرز ہونے والے تھے، کسی دوسرے بچے سے لڑائی کے بعد اس پر موبائل چوری کا الزام لگایا گیا اور چونکہ دوسری پارٹی بااثر تھی، یہ غریب پکڑ کر اندر کر دیا گیا۔ اس دوست نے کسی طرح رؤف کلاسرا سے رابطہ کیا۔ ان کی پہلے کبھی پرسنلی ملاقات ہوئی تھی نہ فون پر بات ہوئی۔ صرف یہ کہ اس دوست کی بعض تحریریں رؤف کلاسرا نے پڑھ رکھی تھیں۔ پورا ماجرا سن کر رؤف نے صرف اتنا پوچھا کہ بچہ واقعی بے قصور ہے۔ دوست نے یقین دہانی کرائی تو رؤف کلاسرا نے کہا ٹھیک ہے۔
کچھ دیر بعد اسی بدبخت تھانے دار کا انہیں فون آیا جو پہلے بات سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ اس نے تھانے بلایا، منت کرکے چائے بسکٹ کھلائے، بچے کو پہلے ہی حوالات سے باہر نکال کر عزت سے کرسی پر بٹھا رکھا تھا۔ تھانے دار نے معذرت کی، شکایتی پارٹی کی جھوٹی درخواست خارج کی اور بچے کو ساتھ لے جانے کا کہا۔ معلوم ہوا کہ شائد وہاں کا ڈی پی او کلاسرا صاحب کا جاننے والا تھا، کلاسرا صاحب نے انہیں صرف یہ کہا کہ دیانت دارانہ تفتیش کرائیں، بچہ بے قصور ہے تو اسے فوری چھوڑ دیں، اس کے میٹرک کے پیپرز ہونے والے ہیں۔ کیس جھوٹا تھا، فوری پتہ چل گیا اور یوں ہمارے اس دوست کی مشکل آسان ہوگئی۔ آج وہ بچہ انٹر بھی کر چکا ہے۔
ایسی کئی مثالیں، بہت سے واقعات ہیں۔ میرے جاننے والوں میں ہی سے آٹھ دس مثالیں نکل آئیں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رؤف کلاسرا بہت زیادہ لکھنے والوں میں ہے، کالم وغیرہ کے علاوہ بھی وہ پوسٹیں کرتا رہتا ہے، ولاگ، فیس بک پر کلپس وغیرہ۔ کئی ہلکی پھلکی پوسٹیں بھی کرتا ہے، اپنے بعض پرانے دوستوں جیسے شفیق لغاری کے حوالے سے بھی پوسٹ کرتا رہتا ہے۔ مگر کبھی آپ نے کلاسرا کی وال پر، اس کے قلم یا زبان سے ایسا کوئی واقعہ نہیں سنا ہوگا جس میں اس نے کسی کی مدد کرنے کا قصہ بیان کیا ہو۔ حالانکہ ایسے........
