menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baldiyati Nizam Subon Ka Mutbadil Nahi

32 0
10.09.2026

بلدیاتی نظام نئے صوبوں کا متبادل نہیں

نئے صوبے بنانے کی بحثیں چل رہی ہیں، یہ اچھی بات ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے نیشنل ڈیبیٹ چلنی چاہیے۔ بس اس میں فکری مغالطے نہ پیدا کئے جائیں۔ جیسے یہ کہنا درست نہیں کہ نئے یونٹ بنانا ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ نہیں بلکہ اس سے ملک مضبوط ہوگا۔

اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام لایا جائے، وہ نئے صوبوں کا متبادل ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ یہ دونوں بالکل الگ باتیں ہیں۔ ہمار یہاں جیسے ہی ٹاک شوز میں جیسے ہی یہ تذکرہ ہو، فوراً لسانی تقسیم، علاقائی تعصب اور وفاق کے کمزور ہونے کے خطرے گنوائے جانے لگتے ہیں۔ اس کے بعد ایک بظاہر نہایت معقول مشورہ سامنے آتا ہے کہ بھائی نئے صوبے بنانے کی کیا ضرورت ہے، بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا دیجیے، سارے مسئلے خود ہی حل ہوجائیں گے۔

یہ مشورہ سننے میں بھلا لگتا ہے، مگر یہ ادھورا، نامکمل اور تشنہ حل ہے۔ مسئلہ کا یہ پورا تو درکنا آدھا علاج بھی نہیں۔ بااختیار بلدیاتی نظام بلاشبہ پاکستان کی اشد ضرورت ہے، لیکن وہ نئے صوبوں کا متبادل نہیں۔ یہ حکمرانی کی دو الگ سطحیں ہیں، دونوں کے کام مختلف ہیں۔ ہمیں دونوں چاہییں، ایک کو دوسرے پر قربان کرنے سے بات نہیں بنے گی۔

یہ درست ہے کہ بلدیاتی حکومت عام آدمی کے سب سے قریب ہوتی ہے۔ صفائی، پانی، گلیاں، نالیاں، محلے کی سڑک، مقامی ٹرانسپورٹ، پارک، بنیادی صحت کے مراکز، یہ سب اسی کے ذمے ہونے چاہییں۔ ایک منتخب میئر یا ضلع ناظم یہ کام کسی صوبائی سیکرٹری سے کہیں بہتر کر سکتا ہے، کیونکہ اسے اگلے الیکشن میں انہی گلیوں میں ووٹ........

© Daily Urdu