Karbala, Jahan Rait Bhi Roi
کربلا، جہاں ریت بھی روئی
تاریخِ انسانیت میں بہت سے میدان خون سے رنگے گئے، بہت سے تاج اچھلے، بہت سے تخت الٹے اور بے شمار فاتح وقت کی گرد میں گم ہو گئے مگر ایک میدان ایسا بھی ہے جہاں شکست نے فتح کو جنم دیا، جہاں پیاس نے انسانیت کو سیراب کیا اور جہاں چند نفوسِ قدسیہ نے اپنے خون سے حق و باطل کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی جسے قیامت تک کوئی مٹا نہیں سکے گا۔ اس میدان کا نام کربلا ہے۔
دسویں محرم کا سورج جب تپتے ہوئے آسمان پر نمودار ہوا تو ریت کے ذرے آگ بن چکے تھے۔ فرات کا پانی نگاہوں کے سامنے تھا مگر پیاسے لبوں تک اس کی ایک بوند بھی نہ پہنچنے دی گئی۔ خیموں میں معصوم بچوں کی ہچکیاں، ماؤں کی سسکیاں، بہنوں کی خاموش دعائیں اور اہلِ بیتؓ کی ثابت قدمی ایسا منظر پیش کر رہی تھیں کہ اگر........
