menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Az Raah e Kanjoosi

41 0
27.03.2026

تحریر شناس لوگ اپنے مطالعاتی تجربے سے پہچان لیتے ہیں کہ ان کے سامنے موجود تحریر سے کس معروف مصنف کے اسلوب کی مہک آ رہی ہے لیکن ان کے لیے یہ اندازہ لگانا بہرحال مشکل ہوتا ہے کہ مصنف کتنا سن رسیدہ ہے۔ مزاح لکھنے کے لئے جملوں کے ذخیرے کو یورنیم کی طرح تلاش کرنا پڑتا ہے اور دماغ کی مشین کے ذریعے اس کی افزودگی Enrichment کرنا پڑتی ہے۔ اس مشق کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی نوجوانوں کی تحریریں بھی نحیف و نزار معلوم ہوا کرتی ہیں اور ان کی تحریروں پر ناقدین کو جھریاں بھی شفاف نظر آ جاتی ہیں۔ مگر دوسری جانب عمر رسیدہ لکھاریوں کی تحریر میں بھی بڑا "دَمَ خم" نظر آتا ہے اور وہ اچھے بھلے خمیدہ کمر"نوجوانوں" کو قابو میں لے کر گھیرا ڈال لیتی ہے اور پھر اپنے اس تحریری جال کے شکنجے سے نکلنے نہیں دیتی اور اسے ہمیشہ اپنا دامن گیر بنائے رکھتی ہے۔

ایک عمر رسیدہ کمر خمیدہ شاعر جس کے لئے چلنا پھرنا تو درکنار ذرا سی لب کشائی بھی عذابِ جان ہوتی ہے مگر اس کی غزل کے اندازِ زلف گیری کے فن سے ذِی عقل نوجوان بھی باآسانی اس کے پھندے میں تو آ جاتے ہیں مگر ایک کام یہ اچھا ہوتا ہے کہ انہیں مطالعہ کا شوق پڑ جاتا ہے اور وہ تحریر گردی شروع کر دیتے ہیں لیکن یہاں ایک بات اہم ہے کہ کتاب کا انتخاب کبھی اس کے انتساب سے نہ کریں اور اگر آپ خوشی خرید نہیں سکتے تو کم از کم کتاب خرید کر تجربہ کر لیں آ پ کو کچھ نہ کچھ افاقہ ضرور ہو جائے گا مگر آ پ اس علاجِ بے مثال کو کامل........

© Daily Urdu