menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Blackmailing, Jamhuriat Aur Aik Ghair Mozoon Misal

26 0
16.08.2026

بلیک میلنگ، جمہوریت اور ایک غیر موزوں مثال

رؤف کلاسرا صاحب کا کالم میں عموماً دلچسپی اور احترام سے پڑھتا ہوں۔ ان کی تحریروں سے اختلاف بھی ہو تو اس میں کم از کم یہ اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ وہ اقتدار، سیاست اور ریاستی رویوں کو کسی ایک جماعت یا شخصیت کے چشمے سے دیکھنے کے بجائے وسیع تر تناظر میں پرکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے جناب کے کل کے (مورخہ 14 اگست) کالم میں عمران خان اور ہزارہ برادری کے دھرنے کا حوالہ کچھ غیر متوقع اور، میری نظر میں، اصل بحث سے قدرے غیر متعلق محسوس ہوا۔

کلاسرا صاحب کی بنیادی بات سے اختلاف نہیں کہ کسی جمہوری حکومت کو ہر عوامی مطالبے یا احتجاج کو "بلیک میلنگ" قرار دے کر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ احتجاج، تنقید اور عوامی دباؤ جمہوریت کا حصہ ہیں۔ حکومت کا کام ہر مطالبے کو ماننا نہیں، لیکن ہر مطالبے کو دھمکی یا بلیک میلنگ قرار دینا بھی جمہوری رویہ نہیں۔

مسئلہ دراصل اس کے بعد پیدا ہوتا ہے جب اس اصول کو ثابت کرنے کے لیے عمران خان کے 2021ء کے کوئٹہ واقعے کو موجودہ عمران خان سے ملاقات کے مطالبے کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔

ہزارہ برادری کے معاملے میں دہشت گردی کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی لاشیں سڑک پر موجود تھیں۔ سوگوار خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ بیٹھے تھے اور وزیراعظم سے اظہارِ یکجہتی اور تعزیت کے لیے کوئٹہ آنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ عمران خان کا اس وقت "بلیک میلنگ" کا لفظ استعمال کرنا یقیناً قابلِ تنقید تھا۔ کوئی شخص اس موقف کو نامناسب........

© Daily Urdu