menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik He Pakistani, Magar Bachon Ke Liye Do Alag Mustaqbil Kyun?

34 0
21.08.2026

ایک ہی پاکستان، مگر بچوں کے لیے دو الگ مستقبل کیوں؟

ایک ہی شہر میں دو بچے صبح اسکول کے لیے نکلتے ہیں۔ ایک بچہ آرام دہ گاڑی میں بیٹھ کر ایسے اسکول جاتا ہے جہاں کشادہ کلاس روم ہیں، تربیت یافتہ اساتذہ ہیں، جدید ٹیکنالوجی ہے، کھیل کے میدان ہیں اور آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ وہاں اسے صرف کتابیں پڑھنا نہیں، سوال کرنا، اپنی رائے دینا، اعتماد کے ساتھ گفتگو کرنا اور بڑے خواب دیکھنا بھی سکھایا جاتا ہے۔

اسی شہر میں ایک دوسرا بچہ بھی صبح اٹھتا ہے۔ شاید وہ پیدل کسی ایسے اسکول کی طرف جاتا ہے جہاں بنیادی سہولتیں بھی یقینی نہیں۔ کہیں عمارت خستہ حال ہے، کہیں اساتذہ کی کمی ہے، کہیں تعلیم کا معیار سوالیہ نشان ہے اور پاکستان میں ایسے لاکھوں بچے بھی ہیں جو صبح اٹھتے ضرور ہیں، مگر کسی اسکول کی طرف جاتے ہی نہیں۔

یہ سب بچے ایک ہی ملک کے شہری ہیں۔ پھر ان کا مستقبل اتنا مختلف کیوں ہے؟

ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر بچہ آگے بڑھ سکتا ہے، اگر وہ محنت کرے۔ لیکن شاید اصل سوال یہ ہے کہ: کیا ہر بچے کو محنت کرنے کا ایک جیسا موقع بھی ملتا ہے؟

کیا کامیابی صرف صلاحیت اور محنت سے طے ہوتی ہے، یا بچے کا مستقبل اس سے بہت پہلے اس گھر، محلے، اسکول اور معاشی حالات سے متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے جن میں وہ پیدا ہوتا ہے؟

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس اسکول کم ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے لیے تعلیم کی دنیا بھی یکساں نہیں۔ ایک ہی ملک میں، عملاً، دو مختلف تعلیمی دنیائیں موجود ہیں۔ ایک دنیا وہ ہے جہاں بچوں کو بہتر اساتذہ، جدید سہولتیں، زبانوں پر عبور، ٹیکنالوجی، تنقیدی سوچ اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ وہاں بچے صرف امتحان پاس کرنے کے لیے تیار نہیں کیے........

© Daily Urdu