Hafeez Ke Shair Mein Usi Burhiya Ka Zikr Hai
حفیظؔ کے شعر میں اُسی بُڑھیا کا ذکر ہے
محفلِ اقبالؔ سجی ہوئی تھی۔ تقریب کے آغاز میں اُردو کے ایک گراں قدر و گزیٹڈ، استاد اُٹھے اور گرج گرج کر اقبالؔ کی نظم شکوہ، سنانے لگے۔ ابھی پہلا ہی مصرع پڑھا تھا کہ ہم نے سر پیٹ لیا۔ حالاں کہ موقع سرپیٹ دینے، کا تھا۔ مصرع انھوں نے اس طرح پڑھا:
کیوں زیاں کار بنوں "سُودے فراموش" رہوں
آج کل معنی جانے بغیر ہی پڑھنے اور بولنے کا رواج عام ہے۔ لسانی لطیفے اسی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ بہت عام ہوتی جارہی ہے یہ وبا کہ جہاں دو الفاظ جُڑے دیکھے جھٹ اُن میں سے پہلے کو زیر کردیا۔ دو ہی پر کیا منحصر؟ تین الفاظ ساتھ ہوں تو تینوں میں سے شروع کے دو الفاظ سوچے سمجھے بغیر ہی زیر کردیے جاتے ہیں۔ سرے تسلمیے خم، پر ہم پہلے ہی مفصل کالم لکھ چکے ہیں۔ چند برس پہلے کی بات ہے، ایک واعظِ شعلہ بیاں خود تو منبر پر جلوہ افروز تھے، مگر مقتدیوں کو جہادے فی سبیل اللہ، پر بھیجا چاہتے تھے۔ خانقاہ سے باہر نکل کر خود انھیں رسمِ شبّیری ادا کرتے ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔
دوسری مسجد کے ایک مقتدی نے بھی یہی غلطی کی۔ ہمیں مطلع فرمایا کہ مولوی صاحب مسلکی اور فرقہ وارانہ جذبات اُبھار اُبھار کرفرزندانِ امت کو فسادے فی سبیل اللہ، پر اُکسا رہے تھے۔ حضرت صاحب خود تو مسجد سے نکل کر حجرے میں مقید ہوجاتے ہیں۔ بازار میں پہنچیں تو پتا چلے کہ معاشرے میں کوئی سنّی سُپر اِسٹور ہے نہ کوئی شیعہ پرچون فروش۔ شہر میں بریلوی بازار ہے نہ دیوبندی مارکیٹ۔ کوئی وہابی کارخانہ ہے نہ اہلِ حدیث اسپتال۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب نولکّھا بازار کے برابر والی گلی میں ہم نے کبھی "بدعت توڑ آئرن ورکس" ضرور دیکھا تھا۔ پَرکارخانہ بند ہوگیا، بدعتیں بند نہ ہوئیں۔ کہیں لوہے کے لٹھ سے بدعتیں بند ہوا کرتی ہیں؟
البتہ ہم اپنی بقراطی بند کرکے پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کو ایک آسان سی پہچان بتائے دیتے ہیں۔ دو الفاظ میں سے جب پہلے لفظ کے........
