Ibrahimi Muahida, Pas e Parda Haqaiq
ابراہیمی معاہدہ، پس پردہ حقائق
ایران کا جوہری پروگرام آج سے نہیں، اپنے آغاز سے ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نشانے پر ہے، ایران کے جوہری پروگرام کو 2004ء میں ہی نشانہ بنایا جا چکا ہوتا اگر اس وقت عراق اور افغانستان میں امریکہ مہم جوئی نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک تیسرا محاذکھولنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے۔ اب جب مسلم دنیا کے حالات سازگار ہورہے ہیں، سیاسی تبدیلی ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، ایران میں ایک بار پھر محاذ گرم کر دیا گیا ہے اور اس مرتبہ اس محاذ کا نقصان ایران سے کہیں زیادہ خود امریکہ کو ہوا ہے، امریکی عوام اور امریکی ادارے اس جنگ کی مسلسل مخالفت کرتے رہے مگر ٹرمپ اپنے دوست کو خوش کرنے کے لیے امریکہ عوام کی امنگوں کا خون کرتے رہے۔
جنگ کا خاتمہ ہونا تھا سو ہو رہا ہے مگر اس خاتمے کے بعد امریکہ، دنیا بھر میں اپنی پہلے جیسی شناخت بحال نہیں کر سکے گا اور اس کا اندازہ اس جنگ کے اتحادیوں کو بھی ہو چکا ہے، ٹرمپ کا یہ اقرار کہ"ایران پر حملہ کرنا ہماری بڑی غلطی تھی"، اس بات کا غماز ہے کہ اب امریکہ میں بھی حالات پہلے جیسے نہیں رہے اور اگر یہ جنگ انہی دس نکات پر ختم بھی ہورہی ہے تو آگے سب سے برا مسئلہ ابرہم اکارڈ کا ہے، مسلم دنیا تو ایک طرف، سعودی عرب اور پاکستان کے لیے یہ معاملہ انتہائی تشویش ناک ہے، پاکستان کے لیے کڑا امتحان ہے، ایک طرف ٹرمپ کی دوستی اور دوسری........
