menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mir Ki Safarnama Masnavi Tasang Nama Kyun Nazar Andaz Hui? (2)

22 0
20.08.2026

میر کی سفرنامہ مثنوی "تسنگ نامہ" کیوں نظر انداز ہوئی؟ (2)

تسنگ نامہ، کے میر کا فطری ہم پلہ آگرے کا وہ شاعر ہے جسے اردو روایت نے ایک عرصے تک دروازے کے باہر بٹھائے رکھا۔ ہولی، دیوالی، میلے، پھل، پیشے، مزدور، نظیر اکبرآبادی کے ہاں ٹھیٹ ہندوستانی زندگی جھلکتی نہیں، چھلکتی ہے۔ بظاہر میر کی مثنوی تسنگ نامہ اور نظیر کی نظمیں ایک قبیلے کی چیزیں محسوس ہوتی ہیں۔ مگر لالٹین کی لو بڑھائیں تو تین فرق ابھرتے ہیں۔

پہلا فرق دیکھنے والی آنکھ کا ہے اور شاید بہت سے لوگوں کو یہ سن کر حیرت ہو کہ یہاں میر کا پلڑا بھاری ہے۔ نظیر عموماً اپنے شہر ہی کے تماشے دیکھتے ہیں، میر گاؤں گاؤں پھرتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے تسنگ نامہ میں دیکھا، خود خوار ہوتے ہیں اور قاری کو بھی اس خواری میں شریک کرتے ہیں۔ بھیگے کپڑے، خالی جیب، بھٹیاری کے طعنے سب ان پر ہیں۔ میر دل پر وار سہتے ہیں، کڑھتے ہیں اور زیرِ لب بڑبڑاتے ہیں۔

دوسری طرف نظیر کی نظموں کا راوی بالکل مختلف شخص ہے۔ وہ ایک ایسا چکنا گھڑا ہے جس پر ہر گالی، ہر طعنہ، ہر طنز پھسل کر گر پڑتا ہے۔ وہ کسی چیز کو دل پر نہیں لیتا، ہنسی میں اڑا دیتا ہے۔

دوسرا نقطۂ نظر کا ہے جسے آج کی زبان میں پو او وی کہیں گے۔ میر کا بیان ذاتی ہے، میری خواری، میرا سفر، میری بےآرامی، میری بلی۔ نظیر کا قلم عوامی ہے، پورا بازار، عوامی تہوار، تمام خلقت۔

مگر تیسرا فرق وہ ہے جہاں مجھے نظیر کے حق میں کھڑا ہونا ہے اور اپنے استاد شمس الرحمٰن فاروقی سے اختلاف کرنا ہے۔ فاروقی صاحب چونکہ میر کے مقابلے کسی کے پاؤں جمنے نہیں دیتے اور کوئی جمانے کی کوشش کرتے تو اس کی ٹانگ کھینچ لیتے ہیں، اس لیے انہوں نے نظیر پر یہ حکم لگایا ہے کہ اس کے ہاں میر کے مقابلے پر کثرت ہے مگر تنوع نہیں اور یہ کہ نظیر کے پاس اشیا کی فہرست فہرست ہی رہتی ہے۔

مجھے اسے قبول کرنے میں تامل ہے، کیونکہ یہ وہی چھلنی ہے جس نے نظیر کو پہلے دن سے حاشیے پر رکھا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ نظیر بعض اوقات اشیا کو گنتے گنتے انہیں حکمت کے درجے تک اٹھا دیتے ہیں: بنجارہ نامہ، میں اشیا کی وہی فہرست، مال، اسباب، ٹھاٹ، لاد چلے گا بنجارہ، کی تھاپ سے فنا کا بیانیہ بن جاتی ہے جو موضوع کی سطح پر ٹھیک وہی عمودی جست ہے جو تسنگ نامہ، نہیں لیتا اور جس کا ہم اسی مضمون میں اوپر جائزہ لے چکے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ نظیر کی مٹی مشترکہ بلکہ جمہوری ہے۔ وہ کیچڑ کو دیکھ کر سفید شلوار کے پائنچے اونچے نہیں کرتے، بلکہ اس کے مزے لیتے ہیں، خود لتھڑتے ہیں اور دوسروں کو بھی لت پت ہوتے ہوئے دیکھ کر ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔

گر کر کسی کے کپڑے دلدل میں ہیں معطر پھسلا کوئی کسی کا کیچڑ میں منھ گیا بھر

اک دو نہیں پھسلتے کچھ اس میں آن اکثر ہوتے ہیں سینکڑوں کے سر نیچے پاؤں اوپر

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

یہاں زندگی کی ہاؤ ہو ہے، گھماگھمی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو میر کی اشرافیائی نازک مزاجی کو قبول نہیں۔ نظیر مجمعے کو دیکھ کر اشتیاق سے ہمکتے ہیں اور لوگوں کو دھکیل کر اس کے اندر پہنچ جاتے ہیں۔ میر کا بھیڑ دیکھ کر دم گھٹتا ہے۔ تسنگ نامہ میں یہی کوفت کھل کر سامنے آتی ہے۔ میر ہمدرد تو ہیں، مگر ان کی ہمدردی اپنے لیے اور اپنی بلی کے لیے مخصوص ہے۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ، خاص طور پر نچلے طبقے کے ساتھ ان کا رویہ تحقیر کا ہے۔ وہ گڑھی کے لوگوں، مزدوروں، دکانداروں کی صورتوں اور........

© Daily Urdu (Blogs)