menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Heat Wave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

38 0
07.06.2026

ہیٹ ویو اور طبقاتی تضاد: سورج ایک، صدمے دو

آگ برس رہی ہے، سڑکیں سنسان ہیں اور پرندے بھی چھاؤں ڈھونڈ رہے ہیں۔ کہتے ہیں موسم بدلتے ہیں تو رنگ لاتے ہیں، مگر اب ہمارے ہاں موسم بدلتے ہیں تو رنگ نہیں، بلکہ خوف اور سنسنی لاتے ہیں۔ جون کا آغاز ہوتے ہی یوں لگتا ہے جیسے آسمان سے کسی نے آگ کی بھٹی کا منہ اس دھرتی کی طرف کھول دیا ہو۔ سورج سوا نیزے پر ہو یا نہ ہو، لیکن لاہور، کراچی، سکھر اور نوابشاہ کی سڑکوں پر پگھلتا ہوا لک لکاتا ڈامر (کولتار) اور اڑتی ہوئی لو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم کسی قدرتی آفت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ جو ہر سال مئی اور جون کے مہینوں میں اخبارات کی سرخیوں میں ہیٹ ویو، ہیٹ سٹروک اور ہیٹ ایگزاسشن، جیسے بھاری بھرکم انگریزی الفاظ جلی حروف میں چھپتے ہیں نا، یہ محض طبی اصطلاحات یا خشک سائنسی اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ ہمارے اردگرد جیتے جاگتے انسانوں کی بے بسی، سسکتی سانسوں، ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کی افراتفری اور سرد خانوں میں گرتی لاشوں کی وہ دردناک داستانیں ہیں جنہیں ہم ہر سال دیکھتے ہیں، روتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔

ہم بحیثیت قوم بھی عجیب المیے کا شکار ہیں۔ جب تک کوئی آفت ہمارے اپنے گھر کا دروازہ نہ کھٹکھٹا دے، جب تک ہمارا اپنا کوئی پیارا اس کی زد میں نہ آ جائے، ہم اسے صرف ایک خبر، سمجھتے ہیں اور صفحہ پلٹ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے مئی اور جون کے مہینے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ درجہ حرارت جب 45 اور 50 ڈگری کو چھونے لگتا ہے تو ہم ہائے وائے مچاتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس تپش کو دعوت دینے میں ہمارا اپنا کتنا ہاتھ ہے۔ ہم نے ترقی اور جدیدیت کے نام پر اپنے شہروں کو کنکریٹ اور سیمنٹ کا جنگل بنا دیا۔ جہاں گھنے اور سائے دار درخت ہوا کرتے تھے، وہاں ہم نے بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور کمرشل پلازے کھڑے کر دیے۔ درخت بے دردی سے کاٹے گئے، نہریں اور تالاب مٹی سے بھر دیے گئے اور اب جب زمین تپ رہی ہے تو ہم ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈک میں بیٹھ........

© Daily Urdu (Blogs)