Waqia e Karbala Ka Nafsiyati Tajzia
واقعہ کربلا کا نفسیاتی تجزیہ
دنیا میں کوئی غم ایسا نہیں جو صدیوں زندہ رہے۔ آدمی مرتا ہے، اس کے پیارے روتے ہیں اور پھر وقت سب کچھ مٹا دیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ عام غم اپنی شدت کھو دیتا ہے۔ مہینوں میں، سال دو سال میں۔ مگر کربلا؟ کربلا چودہ سو سال بعد بھی آنکھ بھگو دیتی ہے۔ کیوں؟ یہ سوال صرف تاریخ کا نہیں۔ یہ نفسیات کا سوال بھی ہے کیونکہ جو غم نسل در نسل منتقل ہوتا رہے اور کم ہونے کے بجائے گہرا ہوتا جائے، اس کے پیچھے انسانی ذہن کے کچھ ایسے گہرے قانون کام کر رہے ہوتے ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔
آؤ۔۔ اس زخم کو ماہر کی نظر سے دیکھیں اور دیکھیں کہ یہ ہمیں کربلا کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔ نفسیات میں ایک بات پر سب متفق ہیں "اولاد کا غم سب سے شدید اور سب سے دیرپا غم ہے"۔ شریک حیات کا انتقال ہو، والدین کا، دوست کا، انسان وقت کے ساتھ سنبھل جاتا ہے مگر جب اولاد جائے تو کچھ ٹوٹتا ہے جو شاید کبھی پوری طرح نہ جڑے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اولاد کھونے والے والدین میں طویل المدتی غم، ڈپریشن اور پی ٹی ایس ڈی کی شرح ہر دوسرے رشتے سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ صرف محبت نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بچہ والد کی شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان کے بدن کا ایک اپنا جزو۔ بچہ مرے تو والد کا ایک ٹکڑا بھی مر جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ غم اتنا زیادہ کاٹتا اور درد دیتا ہے۔ اب اس عدسے سے کربلا کو دیکھیں۔ ایک باپ جس نے ایک دن میں اپنے کئی جگر گوشے قبر میں اتارے۔ اٹھارہ سالہ علی اکبرؑ سے لے کر چھ ماہ کے علی اصغرؑ تک۔ یہ صرف صبر کی انتہا نہ تھی یہ انسانی ذہن کی اس آخری حد کا امتحان تھا جہاں عام انسان بکھر جاتا ہے مگر امام حسینؑ بکھرے نہیں۔
اور یہاں........
