Bimar Karne Wala Samaj
دو کروڑ چالیس لاکھ۔ یہ کسی شہر کی آبادی نہیں ہے یہ اُن پاکستانیوں کی تعداد ہے جنہیں اِسی لمحے کسی نہ کسی نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے اور پورے ملک میں ہر ایک لاکھ افراد کے لئے دو سے تین ماہرِ نفسیات موجود ہیں، پوری دنیا میں سب سے کم۔ ہماری یونیورسٹیوں کا حال اِس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر دو میں سے تقریباً ایک طالبِ علم اُداسی کی علامتیں لیے پھر رہا ہے۔ ہم عادتاً اِس سارے بوجھ کو اُس اکیلے فرد پر ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں۔ کمزور ہے۔ ناشکرا ہے۔ برداشت نہیں ہے۔ مگر سوال جو ہم کبھی نہیں پوچھتے، وہ یہ ہے کہ کیا یہ بیماری صرف اُس کے اندر جنم لیتی ہے، یا اِس کا بڑا حصہ باہر، ہمارے اپنے بُنے ہوئے سماج میں تیار ہوتا ہے؟
دماغ ایک عجیب ڈھنگ پر بنا ہے۔ وہ سماجی زخم اور جسمانی زخم میں فرق نہیں کرتا۔ جب کسی کو بار بار نیچا دکھایا جائے، کمتر جتایا جائے تو اُس کے اندر، دماغ میں وہی خطرے کا الارم بجتا ہے جو کسی جسمانی حملے پر بجتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جسم میں دباؤ کا ہارمون کورٹیسول مستقل بلند رہتا ہے۔ آہستہ آہستہ دماغ کا خوف کا مرکز، امیگڈالا، حد سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے اور فیصلہ سازی کا مرکز، پری........
