menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Asaib, Ya Koi Ansuni Pukar?

14 0
12.09.2026

آسیب، یا کوئی اَن سنی پکار؟

مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جو میں نے دیکھا تھا۔ گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ ایک نوجوان، خوبصورت لڑکی زمین پر گری پڑی ہے، اُس کا جسم اکڑا ہوا ہے اور آنکھیں جیسے ایک ہی جگہ ٹک گئی ہوں۔ لڑکی کے منہ سے ایک اجنبی، بھاری آواز نکل رہی تھی۔ گھر میں موجود لوگوں سے کوئی کہتا ہے اِس پر سایہ ہے، لڑکی میں جن آگیا ہے۔ فوراً کسی عامل کو بلانے کی تیاری شروع کردی جاتی ہے۔ اس ہنگامے کے دوران کسی نے نہیں سوچا یہ لڑکی آخر ایسا کر کیوں رہی ہے؟

ایک سو چالیس سال پہلے، چھ ہزار کلومیٹر دور، پیرس کے ایک ہسپتال کے اسٹیج پر بھی بالکل یہی منظر، روز کھیلا جاتا تھا اور پوری دنیا کے ڈاکٹر اُسے دیکھنے آتے تھے۔ اس اسپتال میں ایک عظیم ڈاکٹر تھا، ژاں مارٹاں شارکو، جسے جدید نیورولوجی کا بانی کہا جاتا ہے۔ سالپیٹریئر ہسپتال میں اُس کے پاس ہزاروں عورتیں تھیں جنہیں "ہسٹیریا" کا مرض لاحق تھا۔ مرض کی علامات تھیں: بے قابو ہنسی یا رونا، جسم کا اکڑنا اور مروڑ، بے ہوشی، فالج، دورے اور کبھی کبھی عارضی اندھا پن یا بہرا پن۔ شارکو نے ہزاروں کیس دیکھ کر "ہسٹیریا کے قوانین" مرتب کیے اور 1882 میں اعلان کیا کہ یہ دورہ ہر ملک، ہر نسل، ہر زمانے میں ایک جیسا ہوتا ہے۔ اُس........

© Daily Urdu (Blogs)