menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pathiyan, Tambaku Aur Abba Ji Ka Huqa

18 0
previous day

پاتھیاں، تمباکو اور ابا جی کا حقہ

ڈیوڑھی کا دروازہ کھلتا، کھڑ کھڑ کی آواز آتی، باورچی خانے میں چولہے کے سامنے بیٹھی امی آواز دیتیں۔ پاتھیوں (اپلے) کو آگ لگا دو۔

وسیع و عرض صحن اینٹوں سے بنا تھا اور اس کے ایک کونے میں بیری کا درخت تھا۔ بیری کے درخت سے ذرا ہٹ کر ایک طرف مٹی کی انگیٹھی رکھی تھی۔ بیری کے دوسری طرف صحن کے کونے میں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی۔ کوٹھڑی کی چھت نیچی تھی اور وہاں صبح شام چڑیوں کا ایک جھنڈ باجرہ چگتے نظر آتا۔ باجرے کے ساتھ ایک پیالے میں پانی بھی رکھا ہوتا۔ ابا ہر شام کوٹھری کی دیوار کے ساتھ میز رکھتے، اس پہ چڑھ کر چھت پہ مٹھی بھر باجرہ بکھیرتے، پیالے کا بچا ہوا پانی پھینک کر تازہ پانی بھرتے۔

یہ ابا کی چڑیوں سے محبت تھی یا ذمہ داری، ہم نہیں جانتے۔ مگر یہ ضرور دیکھا کہ انہوں نے کبھی کسی بچے کو نہیں کہا کہ آج چڑیوں کو تم دانہ ڈال دو۔ ابا کے اس عمل کے دوران بھی چڑیاں بدستور دانہ چگتی رہتیں۔ جیسے جانتی ہوں کہ ان کے دانے پانی کا بندوبست کرنے والا یہ ادھیڑ عمر مرد بے ضرر ہے۔ چڑیوں کے اُڑنے، دانہ چگنے اور چوں چوں کی آوازیں اس صحن کا ایک مستقل حصہ تھیں اور مکینوں کی زندگی کا بھی۔

کوٹھڑی ایسے کاٹھ کباڑ کی جائے مسکن تھی جنہیں یہ سوچ کر سنبھال لیا جاتا کہ کسی نہ کسی روز ضرورت ہوئی تو کوٹھڑی اس چیز کو حاضر کر دے گی۔ لیکن ایک چیز ایسی تھی جس کے لیے کوٹھڑی کا دروازہ دن میں کئی بار کھولنا پڑتا۔ وہ تھی دروازے کے ساتھ پڑی بوری جو پاتھیوں سے ہر وقت بھری رہتی۔

گاؤں دیہات میں بھینس کے گوبر کو سکھا کر پاتھیاں (اپلے) بنا کر ایندھن کے طور پہ استعمال کرنا ایک........

© Daily Urdu (Blogs)