Wahan Ke Thay He Nahi
استنبول ڈھلوانی شہر ہے۔ اس کو پیدل پھر کر دیکھنا بہترین ہے لیکن اگر آپ کی کمر پر کیمرا بیگ بھی لدا ہے تو بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اترائیاں چڑھیاں ہیں۔ کیمرے اور لینزز کا بوجھ ڈھونا عذاب لگتا ہے۔ لیکن بس اس شہر سے محبت ہے اور کچھ یہ بھی یہاں کی شامیں رنگین ہوتی ہیں۔ میں ہر بار اپنا فوٹوگرافی کا شوق پورا کرکے واپس لاہور چلا جاتا ہوں اور پھر تصاویر کو دیکھنے کا وقت بھی نہیں ملتا۔ پرانا ڈیٹا ہی بہت جمع ہے۔ اس ٹور میں سوچا ہے کہ ہر روز رات کو دیکھ کر پوسٹ کر دیا کروں۔ اگر صرف شوٹ کرتا رہا تو پھر جمع ہوتا جائے گا اور پوسٹ ہونے سے رہ جائے گا۔
چار دن بعد میں نے اس سے بھی تھک جانا ہے اور پھر کیمرا چھوڑ کر بنا کوئی بوجھ ڈھوئے تن تنہا گھومتا رہوں گا۔ زندگی نے موقع دیا تو صرف استنبول پر ہی کافی ٹیبل بُک یا فوٹوگرافک بُک کروں گا۔ عرصہ ہوا میں نے فوٹوگرافی پوسٹ کرنا چھوڑ رکھی ہے۔ برائے شوق جہاں جاتا ہوں کر لیتا ہوں مگر پوسٹ نہیں کرتا اور ڈیٹا جمع ہوتا رہتا ہے۔ وجہ کچھ تو یہ کہ میرے کام کا استحصال کافی ہوا ہے اور کچھ یہ کہ اب دل بھی نہیں رہا۔ کسی سے اب کیا منوانا ہے کہ میں اچھا فوٹوگرافر ہوں۔ اب تو زندگی کی اس سٹیج پر پہنچ گیا ہوں کہ کوئی جو سمجھے، جو کہے، جو چاہے، کرتا رہے۔ میں........
