Munda Ziyada Sanwla Aye
دنیا کے کئی ممالک میں جانا ہوا مگر کلبوں کے اندر جھانکنے کا شوق پیدا نہیں ہو پایا۔ یوں نہیں کہ برائے مشاہدہ دیکھے نہیں۔ تین چار بار باقاعدہ ٹکٹ لے کر اندر گیا اور ایک چکر لگا کے پانچ منٹ بعد باہر نکل آیا۔ صرف ایک بار ایسا ہوا کہ موسیقی کی دُھن پر تھوڑے سے پاؤں چلے۔ یہ پرتگال کا شہر پورٹو تھا۔
گزرتے گزرتے ایک کلب سے آواز آ رہی تھی "چل چھئیاں چھئیاں چھئیاں چھئیاں"۔ یہ گانا سُن کر مجھے لگا کہ ذرا اندر جھانک لوں شاید دیسی لوگوں کا اکٹھ ہی ہو۔ بیس یورو کی انٹری ٹکٹ تھی۔ میں اندر چلا گیا۔ ایک تو اس کلب کا ساؤنڈ سسٹم دیوہیکل تھا یعنی اس قدر اونچا اور بیس سے بھرپور کہ کسی بندے بشر کا شور سنائی نہیں دیتا تھا۔ ڈی جے شاید دیسی تھا اس نے گانا رپیٹ پر چلایا ہوا تھا اور اس کی دُھن پر سارا ماحول مست تھا۔ وہ ناچم ناچ مچا ہوا تھا الاماں۔
میں تو ایسے ہی ماحول کا مشاہدہ کرنے گیا تھا اور یہ سوچ کر کہ شاید اندر بھارتی یا پاکستانی یا بنگالی لوگ مل جائیں تو چلو گپ شپ ہی ہو۔ مگر اندر یورپی لوگ تھے یا نان دیسی سیاح تھے۔ جب سپیکروں پر بول گونجے "وہ جس کی زباں........
