menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Punjab Employment Authority

12 0
22.05.2026

پنجاب ایمپلائمنٹ اتھارٹی

پاکستان، خصوصاً صوبہ پنجاب، اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں نئے ادارے، اتھارٹیز اور فورسز تو قائم ہو رہی ہیں، مگر لاکھوں تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان باعزت روزگار سے محروم ہیں۔ یہ محرومی صرف معاشی نہیں، بلکہ اس نوجوان کے پورے وجود پر ایک بوجھ ہے جو برسوں پڑھ کر، والدین کی جمع پونجی خرچ کراکے اور اپنی صلاحیتیں نکھار کر صرف ایک منصفانہ موقع کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ انتظار جب سالوں میں بدل جاتا ہے تو نوجوان کی امید، خودداری اور سماج پر اعتماد سب کچھ ٹوٹنے لگتا ہے۔

آج پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایم فل، ایم بی اے اور انجینئرنگ ڈگری رکھنے والے نوجوان چھوٹی موٹی دکانوں پر کام کرتے یا گھروں میں بے مقصد بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ ان کی نااہلی نہیں، بلکہ ریاستی نظام کی ناکامی ہے جو ان کی صلاحیتوں کو راستہ دینے میں کامیاب نہیں ہوا۔

Pakistan Bureau of Statistics کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 2020-21 کے 45 لاکھ سے بڑھ کر 59 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور مجموعی بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی ہے۔ اس میں سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بے روزگار افراد میں گریجویٹس کا حصہ 14.8 فیصد ہے، جبکہ ملازم افراد میں یہ تناسب صرف 8.9 فیصد ہے۔ یعنی جتنا زیادہ پڑھو، بے روزگاری کا خطرہ اتنا ہی زیادہ۔

عمر کے حساب سے دیکھا جائے تو 25 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 8.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے اور اس عمر کی خواتین میں یہ شرح 14.9 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ 35 سے 55 سال کی درمیانی عمر کے تعلیم یافتہ افراد بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو گھروں کے کفیل ہیں، جن پر بچوں کی تعلیم، والدین کی دیکھ بھال اور گھریلو اخراجات کی ذمہ داری ہے۔ ان کی بے روزگاری پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔

تعلیمی سطح کے مطابق اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ انٹرمیڈیٹ سطح کے تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد، ڈگری ہولڈرز میں 10.9 فیصد اور ماسٹر، ایم فل یا پی ایچ ڈی ڈگری........

© Daily Urdu (Blogs)