Sipahi Maqbool Hussain
پاکستان زندہ باد یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا یہ سپاہی مقبول حسین کی پوری زندگی کا عہد تھا۔ ایک ایسا عہد جسے دشمن کی قید تشدد، بھوک پیاس اور ناقابلِ تصور اذیتیں بھی کمزور نہ کرسکیں 1965ء کی جنگ میں کشمیر کے محاذ پر لڑتے ہوئے سپاہی مقبول حسین ایک کارروائی کے دوران زخمی ہوئے۔ اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کا کہا اور خود دشمن کو روکنے کے لیے وہیں ٹھہر گئے اسی دوران بھارتی فوج نے انہیں گرفتار کرلیا قید کے دوران ان سے جنگی معلومات حاصل کرنے کے لیے بدترین تشدد کیا گیا انہیں بھوکا پیاسا رکھا گیا اذیتیں دی گئیں اور پاکستان سے بے وفائی پر مجبور کیا گیا مگر وہ اپنی وفاداری سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے جب انہیں پاکستان مردہ باد کہنے پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے پوری قوت سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کیا۔
دشمن نے ان کی آواز خاموش کرنے کے لیے ان کی زبان کاٹ دی مگر شاید وہ یہ بھول گیا تھا کہ وطن سے محبت صرف زبان سے نہیں ہوتی جس زبان کو کاٹ دیا گیا اسی وفاداری نے ان کے ہاتھ کو قلم بنا دیا اور انہوں نے اپنے خون سے........
