Lailaj Sarkari Hospital
چند دن ہوئے کہ مجھے ایک جاننے والے نے رابطہ کیا اس کا موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ کے دوران ایک پسلی پر فریکچر آیا تھا اور وہ جنرل ہسپتال آؤٹ ڈور میں مشورہ کے لئے گیا تو اسے پیراسٹامول اور وٹامن ڈی کا کیپسول دیا گیا تھا۔ وہ شخص کافی تکلیف میں تھا اور اس نے بتایا کہ رات بھر درد کی وجہ سے وہ سو نہیں سکا تھا اور اس نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر سے بات کرکے کوئی اچھی دوا لکھوادیں۔ جب ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں ڈاکٹر سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ ہسپتال کے اندر سے تو صرف پیراسٹامول کی گولیاں ہی دستیاب ہیں اور ہم اس کے علاؤہ کوئی دوا نہیں لکھ سکتے ہیں۔
جب مریض نے ڈاکٹر سے کہا کہ جناب آپ مجھے کوئی اچھی دوائی لکھ دیں کیونکہ وہ سخت تکلیف میں تھا تو ڈاکٹر نے کہا کہ ہمیں اجازت نہیں ہے کہ باہر کی دوا لکھ کر دیں کیونکہ ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے ہدایات ہیں کہ مریض ٹھیک ہو نہ ہو لیکن دوا وہی دینی ہے جو ہسپتال کے اندر ملتی ہے اس لئے اگر تو آپ مناسب علاج کروانا چاہتے ہیں تو کسی پرائیویٹ ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور یا پھر میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے مل لیں وہی آپ کو کوئی درست راستہ بتا سکتا ہے جس پر وہ صاحب میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے ملنے کے لئے ان کے آفس گئے تو بڑے قد کاٹھ والے سکیورٹی گارڈ نے اسے روک دیا اور کہا کہ صاحب آفس میں موجود نہیں ہیں چنانچہ آپ بچہ وارڈ میں جا کر ان سے ملاقات کر سکتے ہیں کیونکہ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کے پاس دہرا عہدہ ہے اور وہ ایم ایس کے ساتھ ساتھ بچہ وارڈ کا پروفیسر بھی ہے۔
اب وہ بیمار شخص گھنٹہ بھر میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو ڈھونڈتا رہا لیکن ملاقات کرنے........
