Kahna Hadsa Aur Wazir e Taleem
کاہنہ حادثہ اور وزیر تعلیم
کاہنہ میں مبینہ طور پر چودہ بچے چھت گرنے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ کئی بچے زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بچے ٹیوشن پڑھنے کے لئے گئے تھے اور اسی دوران چھت گر گئی اور معصوم بچے اپنے مستقبل کو بنانے کا خواب بنتے ہوئے دنیا سے کوچ کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق محلے کے ایک گھر میں ٹیوشن سنٹر قائم تھا جہاں تین درجن کے لگ بھگ بچے پڑھتے تھے۔ ایک کمرہ جس کی چھت پر مرمت کا کام ہو رہا تھا اس وقت دھڑام سے گر گئی جب بچے معمول کے مطابق پڑھائی میں مشغول تھے۔ زیادہ تر بچوں کی عمر دس سال یا اس سے کم ہی تھی۔
اس واقعہ نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں اور سکولوں اور تعلیم کی آوٹ سورسنگ کرنے والی حکومت کی کارکردگی کو بھی بری طرح سے جھنجھوڑا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت اس معاملہ کو گھر کے مالک کی لاپرواہی قرار دے کر اس پر پرچہ کاٹے گی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ سارا معاملہ زمانے کی دھول میں دب جائے گا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ گھر کا مالک یا وہاں پڑھانے والی ٹیچر تو تعلیم بانٹ رہے تھے اور قوم کے معصوم بچوں کو شعور دینے کی کوشش کررہے تھے۔ اب یہ ان کے وسائل کی کمی ہی تھی جس کی وجہ سے وہ خود بھی کسمپرسی کے ماحول میں یہ فریضہ ادا کررہے تھے۔
اب یہ واقعہ وزیر تعلیم کی آنکھیں کھولنے کے لیے بھی کافی ہے جو سارا دن سکولوں کی نجکاری کی باتیں کرتے ہیں اور پھر پرائیویٹ سکولوں کے بڑے مداح ہیں۔ ان کے لئے کھلا پیغام ہے کہ کیا انھوں نے نجکاری کا بیڑا اٹھانے سے پہلے اس بات کا سروے کروالیا تھا کہ صوبے میں کتنے سکول ایسے ہیں جو بغیر چھت اور بجلی کے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس سوال کا جواب بھی ڈھونڈ لیا ہوگا کہ والدین ان بچوں کو ایسے خستہ حال سکولوں اور ٹیوشن مراکز پر کیوں بھیجتے ہیں، انھوں نے اس بات کا بھی پتہ کروالیا ہوگا کہ جو سکول قابل اساتذہ کو پندرہ ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں وہ بچوں کو کونسی کوالٹی ایجوکیشن دے رہے ہوں گے، انھوں نے یہ بھی چھان بین کروا لی ہوگی کہ سخت گرمی میں بھاری بجلی کے بلوں کے ساتھ سکولوں کے پنکھے بھی چل رہے ہوں گے کہ نہیں۔
جناب وزیر موصوف صاحب آپ یقینی طور پر خلوص نیت........
