Budget Aur Karobari Tabqa
بجٹ اور کاروباری طبقہ
کل ایک دوست نے اپنا فارمیسی کا بزنس بند کردیا۔ وہ پچھلے پندرہ سال سے یہ فارمیسی چلارہا تھا۔ چند سال پہلے تک اس کی فارمیسی پر رش ہوا کرتا تھا اور آٹھ سے دس سیلزمین فارمیسی پر موجود ہوا کرتے تھے۔ پچھلے پانچ سے چھ سال میں حالات بدلنے لگے اور ایک طرف ادویات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے سے سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگیا یعنی جس فارمیسی پر بیس لاکھ روپے کی ادویات ہوا کرتی تھیں اور آج وہی ادویات پچاس لاکھ روپے میں بھی نہیں ملتی ہیں۔
اسی طرح بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوا، فارمیسی آنے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کی مد میں ہزاروں روپے بڑھ گئے، فارمیسی ملازمین کی تنخواہ دس پندرہ ہزار سے بڑھ کر چالیس پچاس ہزار ہوگئی کیونکہ گھر سے فارمیسی تک پہنچنے میں لگنے والے خرچ میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری محکموں، پیرا فورس، ڈرگ انسپکٹر سمیت آتے جاتے سرکاری ملازمین کے خرچ الگ سے تھے۔ مجھے اس دوست نے ایک لمبی فہرست دکھائی جس میں ایسے ہی لوگ جو مفت ادویات یا پھر ادھار لے کر گئے تھے اور پھر واپس رقم لوٹانے سے انکار کر چکے تھے اور اس ڈوبی ہوئی رقم کی مالیت بھی کوئی آٹھ دس لاکھ روہے بنتی تھی۔ وقت گزرتے کے ساتھ ساتھ انویسٹمنٹ کا حجم کئی گنا بڑھ چکا تھا جبکہ منافع چند فیصد تک رہ گیا تھا۔
دوسری طرف دکان کے کرائے میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا گیا مختصر یہ کہ وہ جو منافع کماتا تھا وہ ملازمین کی تنخواہ، یوٹیلیٹی بلوں اور روزمرہ کے خرچوں میں ختم ہو جاتا تھا۔ جب کبھی ادویات کی خریداری کا مرحلہ آتا تو نہایت مشکل کے ساتھ اس کے لئے پیسے جمع ہوتے تھے اور ہر ماہ کچھ نہ کچھ جیب سے ہی لگ جاتا تھا۔ دوسری طرف ہسپتالوں میں ادویات کے نسخہ پر پابندی سے روزانہ کی سیل گرتی چلی گئی۔ اس دوست نے پہلے سیلز........
