Aaiye Kuch Ilm e Nafsiyat Parhen
آئیے آج کچھ علم نفسیات پڑھیں
کوئی چار پانچ سال پہلے کا ذکر ہے۔ امریکہ میں میڈیکل اسکول میں جانے کے لئیے MCAT دیا جاتا ہے۔ ایک بچے نے دیا اور میڈیکل اسکول جا پہنچا۔ دوسرے بچے نے دیا اور ویٹنگ لسٹ (فہرستِ مُنتظرین) پر جا پہنچا۔ نمبر میرٹ سے زیادہ تھے اور GPA بھی بہت عمدہ تھا لیکن بہرکیف ایسا ہی ہوا۔ امریکہ میں مسلمانوں اور خصوصا دیسی حضرات کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے اس لئیے عموماََ ایک شہر میں رہنے والے ایک دوسرے کو خوب جانتے ہیں۔ جمعہ پڑھ کر میں نکل ہی رہا تھا کہ ایک پاکستانی صاحب جن سے اچھی بھلی صاحب سلامت ہے، میرے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور دوسرے بچے کے داخلے کا پُوچھا۔
حیران کُن طور پر کہنے لگے کہ آپ فلوریڈا کے ایک میڈیکل اسکول میں بھیج دیں کیونکہ وہ تو امتحان کے بغیر ہی لے لیتے ہیں۔ طنز عیاں تھا۔ کسی بھی شریف انسان کو جواب میں خاموشی اختیار کر لینی چاہئیے اور میں بھی خاموش ہی رہا۔ کچھ ھفتے گزرے صاحبزادے کے داخلے کی خبر آ گئی۔ اُن صاحب کو اپنے تکلیف دہ مشورے کو دہرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ساری زندگی کی عزت دو سطری گفتگو کے بعد گنوا بیٹھے۔ کچھ عرصہ پہلے اُن کی بیگم صاحب کہیں کہتے سُنتے پائی گئیں کہ میرے شوہر کا کوئی دوست نہیں۔ دل میں سوچ آئی کہ دوست تو شاید نہ ہو لیکن ناپسند کرنے والے یا دشمن بہت سے ہوں گے۔
چند دن پہلے ملک سے باہر جانا ہوا اور پاؤں میں کچھ تکلیف کی وجہ سے کئی مرتبہ وہیل چئیر کی ضرورت پڑی۔ عموماََ ہوٹل کے دروازے پر پہنچ کر درخواست کرتے اور کوئی نہ کوئی مدد کر دیتا۔ ایک دن معاملہ کچھ مختلف دکھائی دیا۔ کاؤنٹر پر موجود صاحب بے ڈھب اور بد معاملہ تھے۔ درخواست کی اور جواب میں صاف انکار۔ دوبارہ........
