menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Teen Gaun Aur Kai Kahaniyan

17 1
30.12.2025

کراچی سے سکھر پہنچنے تک ہوا کی خنکی ٹھنڈ کی لہر بن کر رگ و پے میں سرایت کر چکی تھی۔ روہڑی اور سکھر کے سنگم پر قائم دونوں پلوں کے نیچے سندھو دریا اپنی ازلی متانت کے ساتھ بہتا چلا جا رہا تھا۔ ڈھلتے سورج کی نارنجی کرنیں دریا کے بیچ جزیرے پر آباد "سادھو بیلا مندر" اور دوسری سمت "ستیں جو آستانہ" پر یوں بکھری ہوئی تھیں جیسے جھٹ پٹے کا تمام جادو، اسی منظر میں سمونے کا تہیہ کر بیٹھیں ہوں۔

ایک جانب مندر سے آتی گھنٹیوں اور پوجا پاٹ کی چڑھتی اُترتی تان دریا کی لہروں پر ہلکے ہلکے تیرتے ہوئی پھیل رہی تھیں تو دوسری طرف شام کے ملگجے ٹہراؤ میں تلاطم برپا کرتی مسجد کے موذن کی اذان۔

سندھو دریا کے کنارے آباد ان جڑواں شہروں کا کینوس آج بھی مندروں، درگاہوں اور مزاروں کی رنگا رنگی سے بھرا ہے۔

سندھ کے اس سفر کا بنیادی مقصد تو بیٹی کا سیلاب سے متاثرہ خواتین کے حالات اور ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنا تھا۔ مگر میرا ذہن تو ان دھرتی میں بکھری بے شمار کہانیوں کے تعاقب میں تھا۔ بس اڈے سے سیدھے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO) کی دفتر پہنچے۔ شکارپور روڈ پر واقع ایس آر ایس او کا ہیڈ آفس سکھر کی بھاگ دوڑ میں ایک پرسکون پناہ گاہ سا محسوس ہوا لیکن ذہن میں اگلی منزل کا سفر ہنوز غالب رہا۔

اگلے دن ہم ایس آر ایس او کے ساتھیوں سمیت شکارپور ڈسٹرکٹ آفس میں چند خواتین ہیلتھ ورکرز سے مل رہے تھے جو ارد گرد کے گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے چہروں پر زندگی کی مشکلات اور مصائب کی داستان واضح لکھی نظر آرہی تھی لیکن لہجے کی پختگی اور عزم حیران کیے دے رہا تھا۔

یہ وہی عورتیں تھیں جو چند سال پہلے گھر کی دہلیز پار کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لا سکتی تھیں۔ مگر........

© Daily Urdu (Blogs)