menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hate Crime Ya Assault

11 0
01.04.2026

دروازے کی گھنٹی بجی اور مسلسل بجتی چلی گئی۔۔ جیسے کوئی گھنٹی پر انگلی رکھ کر بھول گیا ہو۔

میں گھبراہٹ میں زینے پھلانگتی ہوئی نیچے اتری اور جونہی دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر میری چیخیں نکل گئیں۔

ہم پچھلے چند برس سے انگلینڈ کے شہر لیڈز میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھے۔ میرے شوہر کو ایم ایڈ کی اسکالرشپ ملی تھی اور خوش قسمتی سے میرا اور ہماری تینوں بیٹیوں کا ویزہ بھی ساتھ ہی لگ گیا تھا۔ یوں ہم سب ایک ساتھ ایک اجنبی دیس میں آ بسے۔

لندن کے ہنگامہ خیز شور کے مقابلے میں لیڈز میں ایک عجب ٹھہراؤ تھا۔ یارکشائر ایسا سرسبز کہ نگاہ میں مٹی کا رنگ ہی یاد نہ رہا تھا۔ ہر سمت ہریالی کی تہیں، جیسے زمین نے سبز چادر اوڑھ رکھی ہو اور سب سے دلکش بات یہ کہ ذرا سا شہر سے باہر نکلو تو "یارک شائر ڈیلز" کی وادیاں اپنی بانہیں کھولے کھڑی ملتی اور کچھ ہی فاصلے پر "لیک ڈسٹرکٹ" جہاں جھیلیں، پہاڑ اور بادلوں کا حسین سنگم اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا۔

البتہ موسم بڑا بے ایمان تھا۔ ایک لمحہ دھوپ مسکرا رہی ہوتی اور اگلے ہی پل بادل موسلار دھار بارش برسانے لگتے اور ہوا کے جھکڑ اڑا لے جانے کے درپے ہوتے۔ جلد ہی پلے سے باندھ لیا تھا کہ بیگ میں کچھ ہو نہ ہو، چھتری ضرور ہونی چاہیے۔

دراصل لیڈز سکون، سرسبزی اور بے ترتیب موسم کا ایسا امتزاج تھا جو جلد ہی دل میں گھر کر گیا تھا۔ نئے معاشرے کو سمجھنے اور اس میں ضم ہونے میں وقت تو لگتا ہی ہے۔ ایک ڈیڑھ ماہ تو صرف لہجوں، رویّوں اور موسم کے مزاج کو سمجھنے میں گزر گیا۔

ہماری رہائش لیڈز یونیورسٹی سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر شے اسٹریٹ پر واقع ہالبورن ٹیرس کے اپارٹمنٹس میں تھی، جو خاص طور پر اُن طلبہ کے لیے بنائے گئے تھے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ یہاں اعلی تعلیم کی غرض سے آتے ہیں۔

یونیورسٹی کے اطراف مختلف قومیتوں اور رنگوں کے طلبہ کا ہجوم ایک معمول تھا، مگر ہالبورن ٹیرس کا ماحول کچھ الگ ہی تھا۔۔ زیادہ مانوس، زیادہ گھریلو۔۔ اپنائیت والا۔

کمپاؤنڈ میں دو منزلہ عمارتوں کی قطاریں تھیں اور ہر عمارت کے درمیان کشادہ پارکنگ اور بچوں کے کھیلنے کے لیے کھلی جگہیں چھوڑی گئی تھیں۔ برطانوی گھروں کے مقابلے میں یہ اپارٹمنٹس خاصے وسیع تھے اور اسی کشادگی کے باعث ہمیں یہاں سکون اور شانتی میسر تھی۔

گو کہ ہر ماہ اسکالرشپ کی مد میں ایک رقم ہر ماہ ہمارے روزمرہ کے اخراجات کے لیے مختص تھی لیکن محدود وظیفے میں تین بچیوں کے ساتھ گزارا آسان نہ تھا۔ جلد ہی ہمیں احساس ہوگیا کہ صرف اسکالرشپ پر انحصار ممکن نہیں۔ چنانچہ ہم دونوں میاں بیوی نے جز وقتی ملازمتوں کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے۔

میرے شوہر کو جلد ہی ایک بینک میں پارٹ ٹائم جاب مل گئی اور اگلے ہی مہینے میں نے بھی ایک جز وقتی ملازمت حاصل کر لی۔

ایم ایڈ مکمل ہونے کے بعد میرے شوہر کو پی ایچ ڈی کی اسکالرشپ مل گئی۔ جس میں فیس تو معاف تھی، مگر رہائش اور روزمرہ اخراجات بدستور ہمارے ذمے تھے۔

لیڈز ایک نسبتاً چھوٹا شہر ہے، اس لیے زیادہ تر جگہوں تک پیدل آنا جانا آسان تھا۔ میں بھی اپنی شام کی ڈیوٹی کے لیے روزانہ پیدل جایا کرتی تھی۔ تین سے سات بجے تک۔

آج جب میں گھر لوٹی تو بچیاں کھیل میں مگن تھیں اور ڈرائنگ روم میں میرے شوہر اپنے ایک دوست کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میں نے بھی کچھ دیر اُن کی گفتگو میں حصہ لیا، پھر باورچی خانے میں جا کر رات کے کھانے کی تیاری میں لگ گئی۔

جون کے لمبے اور روشن دن تھے۔ رات کے نو، دس بجے تک دن کا سا سماں رہتا تھا۔

کھانے کے بعد میرے شوہر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

"مجھے لائبریری سے ایک کتاب لینی ہے، میں رفیق کے ساتھ ہی جا رہا ہوں۔ ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گا"۔

یہ کہہ کر وہ دونوں باہر نکل گئے۔ میں نے دروازہ بند کیا اور واپس باورچی خانے میں آ کر بکھرے ہوئے کام سمیٹنے لگی۔

کوئی پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ

برتن دھوتے ہوئے اچانک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کہیں بہت دور سے کسی کے چلانے کی مدھم سی آواز آرہی ہو

میں ٹھٹک گئی۔ صابن سے بھیگے میرے ہاتھ تھم گئے۔ میں نے باورچی خانے کی کھڑکی کھولی اور باہر جھانکا، مگر دور دور تک کوئی نظر نہ آیا۔ گلی سنسان تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ میں نے ذہن کو جھٹکا اور دوبارہ اپنے کام میں جُٹ گئی۔

باورچی خانے سے فارغ ہو کر میں واش روم میں آئی اور ہاتھ منہ دھونے لگی۔

اس بار آواز کچھ زیادہ واضح تھی، مگر پھر بھی جیسے بہت فاصلے سے آتی ہوئی۔

گرمیوں کے باوجود لیڈز کی شامیں خنک ہوتی ہیں، اس لیے میں سرشام ہی کھڑکیاں بند کر دیتی تھی۔ اوپر سے ڈبل گلیزڈ کھڑکیاں، جن سے باہر کی آواز کا اندر آنا تقریباً ناممکن تھا۔

میں ابھی ہاتھ منہ دھو کر تولیے سے چہرہ پونچھ ہی رہی تھی۔۔ کہ دروازے کی گھنٹی بجی اور مسلسل بجتی چلی گئی۔۔ جیسے کوئی گھنٹی پر انگلی رکھ کر بھول گیا ہو۔

میں تیزی سے زینے پھلانگتی ہوئی نیچے آئی اور دروازہ کھولا تو سامنے میرے شوہر کھڑے تھے، لہولہان۔

ان کی سفید شرٹ خون سے تر ہو چکی تھی۔ پھٹے ہونٹوں اور ناک سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔

میرے ہاتھ پاؤں سن ہو گئے۔ میں بے اختیار چیخنے اور رونے لگی۔ شور سن کر بچیاں بھی دوڑتی ہوئی نیچے آئیں اور باپ کو اس حالت میں دیکھ کر سہم کر رونے لگیں۔

اس عالم میں بھی میرے شوہر نے نہایت ضبط سے مجھے تسلی دی اور کہا۔

"گھبراؤ نہیں، فوراً منوج کو فون کرو"۔

میں نے کانپتے ہاتھوں سے لینڈ لائن پر نمبر ملایا اور ہمارے ہمسائے، انڈین دوست منوج بھیا کو فون کیا۔

چند ہی منٹوں میں وہ اپنی اہلیہ ریکھا کے ساتھ ہمارے گھر پہنچ گئے۔

منوج بھیا نے صورتِ حال دیکھتے ہی فوراً ایمبولینس کو کال کی اور پھر میرے شوہر کو اپنے ساتھ لے کر لیڈز سٹی ہسپتال روانہ ہو گئے۔ اس وقت تک خون زیادہ بہہ جانے کی صورت میں میرے شوہر پر بے ہوشی طاری ہو چکی تھی اور میں، دروازے کے پاس کھڑی، ابھی تک اُس آواز کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

اب مجھے سمجھ آیا کہ وہ مدھم سی پکار، دراصل میرے اپنے شوہر کی آواز تھی۔ مگر اُن کے ساتھ ہوا کیا تھا، یہ ابھی تک ایک معمہ تھا۔

میں نے فوراً اپنی قریبی دوست بلدشت کو فون کیا۔ وہ کچھ ہی دیر میں گھبرائی ہوئی اپنے شوہر کے ہمراہ ہمارے گھر پہنچ گئی۔ میں نے بچیوں کو ریکھا کے پاس چھوڑا اور خود بلدشت کے ساتھ لیڈز سٹی ہسپتال کا رخ کیا۔

ہسپتال پہنچ کر دیکھا تو پولیس بھی موجود تھی اور میرے شوہر کا بیان لیا جا رہا تھا۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں پوری کہانی سامنے آنے لگی۔

میرے شوہر نے بتایا: "میں اور رفیق رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے اپارٹمنٹ سے نکلے۔ ہمارے اپارٹمنٹس کے گرد لوہے کی گرِل کی فینسنگ ہے، جس میں آنے جانے کے لیے چار ہندسوں کا کوڈ ڈالنا پڑتا ہے۔ جیسے ہی ہم شے اسٹریٹ پر آئے، آگے ایک چڑھائی شروع ہو جاتی ہے۔ ہم ابھی اس چڑھائی پر چڑھ ہی رہے تھے کہ سامنے سے دو گورے لڑکے آتے دکھائی دیے۔ دونوں نے ہُڈیز پہن رکھی تھیں۔ ہم نے خاص توجہ نہیں دی، کیونکہ یہاں طلبہ کا آنا جانا معمول کی بات ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ ہمارے قریب پہنچے، اچانک ایک لڑکے نے پوری قوت سے میری ناک پر مکا مارا۔

میں اس اچانک حملے سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ دوسرا لڑکا رفیق کے پیچھے "یو پاکی باسٹرڈ" کہتا ہوا دوڑا۔ دونوں کے ہاتھ میں دستانے تھے اور اُس دستانے پر کوئی نوکیلی چیز لگی ہوئی تھی۔ اسی وار سے میری ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا اور مجھے چکر آنے لگے۔

اسی دوران پہلے لڑکے نے میرے منہ پر دوسرا مکا دے مارا۔

جب اُس کا ساتھی رفیق کو قابو کرنے میں ناکام رہا تو وہ بھی واپس میری طرف پلٹا۔ اب دونوں کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح مجھے زمین پر گرا دیں۔ میں پوری طاقت سے اپنے ہاتھوں کے سہارے خود کو بچانے کی کوشش کرتا رہا۔ اسی کشمکش میں میری انگلیوں میں فریکچر بھی ہوگیا۔ مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔ کسی نہ کسی طرح خود کو اُن سے چھڑا کر میں نیچے کی طرف بھاگا۔ بڑی مشکل سے کوڈ ڈال کر گرِل کا دروازہ کھولا اور سیدھا گھر پہنچا"۔

یہ سب سنتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

اب سمجھ آئی کہ وہ آواز، "ہیلپ می، ہیلپ می"

صرف ایک پکار نہیں تھی بلکہ ایک اذیت، ایک خوف، بے بسی اور زندگی بچانے کی بازگشت تھی۔

بالکل ویسی ہی بے بسی، جو آج سے چند برس پہلے میں خود بھی جھیل چکی تھی بس فرق یہ تھا کہ مجھ پر ہونے والا حملہ جان لیوا نہیں تھا۔

وہ بھی گرمیوں کے ہی دن تھے۔ مجھے ملازمت کرتے ہوئے شاید چار یا چھ ماہ ہی ہوئے تھے۔ اُس روز دفتر میں کلچرل پارٹی تھی۔ ہر ایک کو اپنے اپنے ملک کا روایتی لباس پہن کر آنا تھا۔ عرصے بعد بڑے شوق سے اپنا عید کا جوڑا نکالا، اہتمام سے تیار ہوئی اور خوش دلی کے ساتھ دفتر پہنچی۔ ستر، اسی افراد پر مشتمل عملہ ہنسی خوشی، موسیقی اور گپ شپ میں مگن تھا۔ میزیں طرح طرح کے کھانوں اور مشروبات سے سجی ہوئی تھیں۔ ایک اجنبی دیس میں یہ لمحہ کچھ اپنائیت کا سا احساس دے رہا تھا۔

رات آٹھ بجے کے قریب پارٹی ختم ہوئی تو میں حسبِ معمول گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔ وہی راستہ، وہی سڑک جن سے میں روز گزر کر ہالبورن ٹیرس جاتی تھی۔ مین سڑک کے کنارے چند دیسی اور کچھ انگریز دکانداروں کی دکانیں تھیں، جہاں سے میں اکثر واپسی پر دودھ، ڈبل روٹی یا کوئی ہلکی پھلکی چیز لے لیتی تھی۔

اُس روز بھی میں ایک دکان سے دودھ اور ڈبل روٹی لے کر جیسے ہی باہر نکلی، اچانک سامنے سے نوعمر لڑکے لڑکیوں کا ایک جھنڈ میری طرف لپکا۔ پلک جھپکتے میں انہوں نے مجھے گھیر لیا۔

سب کے چہرے ہُڈیز میں چھپے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں پانی سے بھری پلاسٹک کی بوتلیں تھیں۔

پھر اچانک۔۔ بغیر کسی تمہید کے۔۔ انہوں نے مجھ پر بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں۔

بھری ہوئی بوتلیں پوری قوت سے میرے جسم سے ٹکراتیں، ایک کے بعد ایک اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے کپڑے پانی سے بھیگ گئے۔

میں ساکت کھڑی رہ گئی۔ میرے منہ سے بس اتنا نکلا: "واٹ آر یو ڈوئنگ؟ آئی ول کال دی پولیس!"

مگر میری آواز اُن کے قہقہوں اور چیخوں میں دب گئی۔

"پاکی باسٹرڈ! گو بیک ہوم!"

میں نے بے بسی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔

دکانوں کے سامنے کھڑے لوگ، گاہک، دکاندار، راہگیر۔۔ سب بے حسی سے دیکھ رہے تھے۔ جیسے تماشا دیکھ رہے ہوں۔۔

کالے، گورے، دیسی، سب۔ مگر کسی کے چہرے پر نہ ندامت کا تاثر تھا، نہ آنکھوں میں مداخلت کرنے کی ہمت۔ کوئی ایک شخص بھی آگے نہ بڑھا کہ اُن بچوں کو روک دیتا، یا کم از کم مجھے اندر بلا کر اس تذلیل سے بچا لیتا۔ میرے آنسو بے اختیار بہتے جا رہے تھے۔ میں بھیگی ہوئی، ٹوٹے قدموں کے ساتھ گھر کی طرف چل پڑی۔۔ جیسے جسم سے زیادہ روح زخمی ہوگئی ہو اور پھر، وہی ہوا جو اکثر ہوتا ہے۔ پولیس چار گھنٹے بعد آئی۔ انہوں نے میرا بیان لیا۔ میں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ ایک نسلی نفرت پر مبنی حملہ تھا۔۔ ایک ہیٹ کرائم۔

مگر انہوں نے اسے محض "اسالٹ" قرار دیا اور فائل بند کر دی۔

اور آج پھر۔۔ اس پرسکون، سرسبز شہر میں میرے شوہر کے ساتھ بھی تقریباً یہی ہوا۔

ایک اور حملہ، ایک اور زخمی جسم، ایک اور خاموش نظام! اور ایک بار پھر، صرف ایک لفظ: "اسالٹ"۔


© Daily Urdu (Blogs)