Hazrat Khalid Bin Waleed Par Banne Wali Film
کچھ عرصے سے حضرت خالد بن ولیدؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی حیاتِ پاک پر فلم یا دستاویزی کہانیاں بننے کا سلسلہ جاری ہے، جیسا کہ حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ پر اسلامی ممالک میں کام ہو رہا ہے۔ لیکن ایک مخصوص طبقہ اور میں بھی یہ نہیں چاہتا کہ ان کا چہرہ اقدس دکھایا جائے، یا ان کی شان کی برابری کا کوئی عام بندہ کردار ادا کرے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ صحابہ کرامؓ کی شان کے برابر تو تا قیامت کوئی ولی اللہ بھی نہیں ہو سکے گا۔
ہم حضرت ابوالدرداءؓ جتنے پاک بھی نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں، جنہوں نے حضور ﷺ کی طرح اپنی انگلیاں سمجھانے کو کھولیں اور پھر گھبرا کر بولے کہ "میری انگلیاں ان سے چھوٹی ہیں، ان جیسی نہیں ہیں، لیکن میں سمجھانے کو یہ کر رہا ہوں"۔ (یہ روایت حضرت براء بن عازبؓ سے منسوب ہے کہ جب انہوں نے قربانی کے چار حرام عیوب بتانے کے لیے حضور ﷺ کے انداز میں اپنی چار انگلیاں اٹھائیں، تو فوراً خشیتِ الٰہی سے مغلوب ہو کر اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا کہ میری انگلیاں ان جیسی نہیں ہیں)۔ جب صحابہ کرامؓ بھی آقا ﷺ کی مثال نہیں دے سکتے تھے مگر جہاں آقا ﷺ مسکرائے وہاں اسی بات پر مسکراتے، جہاں انہوں نے سر آسمان کی طرف کیا اسی طرح سر اٹھاتے اور جہاں انہوں نے اپنے اعضاء سے کسی بات کی وضاحت کی اسی طرح اپنے اعضاء سے وضاحت کرکے دکھاتے۔
حضرت عمرؓ خلیفہ ہوتے ہوئے اپنے کرتے کو قینچی سے نہیں چھری سے کاٹتے ہیں کہ آقا ﷺ نے یونہی کاٹا تھا (حوالہ: مناقبِ عمر بن الخطاب از ابن الجوزی)۔ یہ بات تو اٹل ہے کہ اللہ اور ان کے حبیب ﷺ کا پیغام صحابہ کی زندگی کے بعد کوئی بھی ویسا نہیں پہنچا سکا، تاہم اب کیا جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے جدید تبلیغی طریقوں سے بھی امت کو منقطع کر دیا جائے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ دوستو! کیا آپ گستاخی اور میٹھی گستاخی کا فرق جانتے ہیں؟
1۔ بلاسفیمی اور "سوئیٹ بلاسفیمی" کا فرق
اسلامی نکتہ نگاہ سے بلاسفیمی (گستاخی) کی تعریف یہ ہے کہ........
