Nazriyat Ki Jang
پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد جب بندوقیں خاموش ہوئیں تو دنیا نے یہ سمجھا کہ شاید انسان نے تباہی سے کوئی نہ کوئی سبق سیکھ لیا ہوگا۔ مگر حقیقت اس کے بلکل برعکس نکلی۔ بڑی بڑی سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں۔ سرحدیں بدل گئیں اور عالمی سیاست میں ایک نئی فکری کشمکش جنم لینے لگی۔ مؤرخ ایرک ہابس بام نے اپنی معروف کتاب The Age of Extremes میں لکھا ہے کہ بیسویں صدی دراصل نظریاتی انتہاؤں کی صدی تھی جہاں مختلف نظریات ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے اور اسی ٹکراؤ نے دنیا کی سیاست کو نئی شکل دی۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کو سخت شرائط کے تحت معاہدہ ورسائے پر دستخط کرنا پڑے۔ اس معاہدے نے جرمن معاشرے میں شدید احساسِ محرومی پیدا کیا۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں ایڈولف ہٹلر جیسا نام نہاد لیڈر ابھرا۔ اس نے جرمن قوم پرستی اور نسلی برتری کے نظریے کو بنیاد بنا کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس نے چند ہی برسوں میں یورپ کو دوبارہ جنگ کی طرف دھکیل دیا۔
برطانوی مؤرخ اینتھنی بیور اپنی کتاب The Second World War میں لکھتے ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم صرف سرحدوں یا علاقوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ دراصل مختلف نظریات کی جنگ تھی۔ ایک طرف فاشزم تھا اور دوسری طرف جمہوری دنیا کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ 1945 میں دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی تو دنیا ایک مرتبہ پھر تقسیم ہوگئی مگر اس بار تقسیم کا معیار جغرافیہ نہیں بلکہ نظریہ تھا۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی تھے جو سرمایہ........
