Tasawwuf: Nazar, Riwaya Ya Asr e Hazir
تصوف: نظر، رویہ یا عصرِ حاضر کا تقاضا؟
تصوف کو اگر صرف کتابوں کے صفحات، علمی نشستوں، خانقاہی رسموں یا محض فکری مباحث تک محدود کر دیا جائے تو یہ ایک فلسفیانہ بحث تو بن سکتا ہے، لیکن انسانی زندگی اور معاشرتی رویوں میں کوئی حقیقی اور مثبت تبدیلی نہیں لا سکتا۔ ہماری تاریخ میں تصوف، علمِ کلام اور فقہ کی حدود پر طویل اور سنجیدہ علمی گفتگو ہوتی رہی ہے۔ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے گہرے اور باریک مفاہیم ہوں، یا ابنِ عربی، مولانا روم اور حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ جیسے جلیل القدر اکابرین کے فکری سلسلوں کے نکات، ان تمام مباحث کا اصل مقصد ہمیشہ انسان کے باطن کی اصلاح، تزکیہِ نفس اور شریعتِ مطہرہ کی روح کو سچے دل سے سمجھنا تھا۔ لیکن آج کے فکری زوال کے دور میں یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے کہ کیا تصوف صرف چند مخصوص اور مشکل اصطلاحات بولنے کا نام ہے؟ یا پھر یہ انسان کے کردار، اخلاق، برداشت اور عملی رویے کا نام ہے؟
یہاں یہ بات بالکل واضح اور روزِ روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ تصوف، شریعتِ مطہرہ یا دینِ اسلام کے احکامات سے الگ کوئی مستقل بالذات يا نیا راستہ ہرگز نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تصوف دراصل دین کے اس احسان والے مقام کی عملی شکل ہے جس کا ذکر حدیثِ جبریل میں ملتا ہے، یعنی خدا کی بندگی اس انداز میں کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے جلیل القدر علماء، محدثین اور فقہاء نے ہمیشہ........
