Nizam e Farooqi Se Doori, Punjab Police Ki Badmasti Aur Muatali Ka Drama
نظامِ فاروقی سے دوری، پنجاب پولیس کی بدمستی اور معطلی کا ڈرامہ
جب اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں سے "ماں" ہونے کے دلفریب دعوے کیے جائیں اور ریاست کو ایک فلاحی و مہرباں وجود کے طور پر پیش کیا جائے، تو اس سرزمین کے مظلوم، بے بس اور محنت کش طبقات یہ آس لگاتے ہیں کہ شاید اب تھانوں کے ہولناک ماحول میں انسان کو انسان سمجھا جائے گا اور ریاستی جبر کا خاتمہ ہوگا۔ مگر زمینی تلخ حقیقت یہ ہے کہ انہی دعووں کی چھاؤں تلے تھانوں کے تاریک کمروں میں غریب مزدوروں پر ستم ڈھایا جا رہا ہے۔ ان کو رات بھر کی ناجائز اور غیر قانونی حراست میں رکھ کر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہی کے بچوں کے دودھ کے چند سو روپے یعنی ان کی دن بھر کی کمائی تک جیبوں سے چھین لی جاتی ہے۔ حکومتی اعلانات کا شور جتنا بلند ہوتا ہے، نچلی سطح پر تھانیداروں کی بدمستی، بے حسی اور فرعونیت اتنی ہی بے باک نظر آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ پولیس کا محکمہ کب سدھرے گا؟ آخر کب تک مظلوموں کی چیخیں ایوانوں کی بہری دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی رہیں گی؟
تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو پولیس، پاسبانی اور احتساب کا یہ شعبہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کی عظیم سنت اور فکر سے جڑا ہوا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ وہ عظیم حکمران اور عادلِ اعظم تھے جنہوں نے دنیا میں انصاف، نظامِ تفتیش اور "العسس" (راتوں کو پہرہ دینے اور شہریوں کے احوال کا جائزہ لینے) کا پاسبان نظام قائم کیا۔ آپؓ کی شانِ عدل کا عالم یہ تھا کہ فرات کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوکا مر جاتا تو عمر فاروقؓ خود کو اس کا جوابدہ سمجھتے تھے۔ آپؓ کے دور میں حکمران یا پولیس اہلکار عوام کے آقا نہیں بلکہ خادم ہوا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ اپنے والیوں، عمال اور تفتیشی افسران کا........
