Aalmi Jang Ke Saaye, Aalmi Mandi Aur Aam Admi Ki Dehari
عالمی جنگ کے سائے، عالمی منڈی اور عام آدمی کی دہاڑی
دنیا ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے بلیٹن مشرقِ وسطیٰ کے بگڑتے حالات، سمندری راہداریوں اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی اور عالمی طاقتوں کے دفاعی بجٹ کے ہوش رُبا اعداد و شمار سے بھرے پڑے ہیں۔ لیکن اس پورے عالمگیر کھیل کا سب سے دردناک المیہ یہ ہے کہ جب بھی طاقتور ممالک اپنے مفادات، جغرافیائی بالادستی اور جنگی ہوس کے لیے بندوقیں اٹھاتے ہیں، اس کی پہلی گولی کسی بعید از قیاس ملک کے عام دہاڑی دار مزدور کے کچن پر جا کر لگتی ہے۔ عالمی ایوانوں میں فیصلے سگار کے دھوئیں میں کیے جاتے ہیں، مگر ان کا تاوان تیسری دنیا کے اس کسان کو بھرنا پڑتا ہے جو صبح سے شام تک زمین سے رزق نچوڑنے کی جدوجہد میں مصروف ہوتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جیسے ہی توازن کھوتی ہیں، ہمارے جیسے ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا گراف سیکنڈوں میں آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ ہماری حکومتیں اس بحران کے جواب میں کبھی موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے چند روپے کی عارضی ریلیف اسکیم کا کاغذی اشتہار سجاتی ہیں تو کبھی سبسڈی کے دلفریب دعوے کرتی ہیں۔ لیکن اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو حقیقت کے تلخ دھارے اس سرکاری ڈرامے سے کہیں........
