menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Takhleeqi Jamood: Kya, Kyun Aur Kaise?

37 0
15.09.2026

تخلیقی جمود: کیا، کیوں اور کیسے؟

تخلیقی جمود کی زد پر آئے ادیب کو کبھی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ جیسے، خالی صفحہ یا سکرین، اسے نگل جائیں گے۔ وہ بے بسی کے ساتھ دہشت بھی محسوس کرتا ہے۔ ایک فن کار کے لیے خالی صفحے کی دہشت، موت کی دہشت کی مانند ہوا کرتی ہے۔

ایک نوجوان مصنف سے لے کر بزرگ ادیب تک تخلیقی جمود کا شکار ہوسکتے ہیں۔

تخلیقی جمود کا تعلق عمر، تجربے، صنف اور شعبے سے نہیں ہے۔ کوئی مصنف، کسی بھی مرحلے پر اس کا شکار ہوسکتا ہے۔

کبھی تخلیقی جمود کلی ہوتا ہے، کبھی جزوی ہوتا ہے۔ مصنف کچھ نہ کچھ لکھ لیتاہے، مگروہ بے ساختہ بہاؤ اور روانی سے خالی ہوتا ہے۔

مصنف اپنی تخلیقی موت سے ڈرا ہو اہوتا ہے۔

وہ اپنے تخلیقی تعطل کے تخلیقی موت میں بدلنے کے خلاف جدوجہد بھی کررہا ہوتا ہے۔ اسی دوران وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ وہ فن میں جس کاملیت کو حاصل کرنا چاہتا ہے، اس میں وہ کامیاب نہیں ہوپارہا۔ اس نے پہلے کبھی کاملیتِ فن کا تجربہ کیا تھا، مگر اب اس سے محروم ہے۔

اسی سے ملتی جلتی حالت کا ذکر علامہ اقبال ایک شعر میں کرتے ہیں:

گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں

فن میں کاملیت کی آرزو ہر ایک کے یہاں ہے۔ اردو میں خونِ جگر کی ترکیب، کاملیت وعظمت کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے کہ محض لفظوں کی ترتیب سے نہیں، خونِ جگر سے فن میں عظمت پیدا ہوتی ہے۔

خونِ جگر فقط محنت کا نہیں، انسانی وجود میں مضمر فطری روانی کا استعارہ بھی ہے۔ اس روانی (flow) کے بغیر، فن مردہ لفظوں کا ڈھیر ہے۔ میر کہتے ہیں:

مصرع کوئی کوئی کبھو موزوں کروں ہوں میں کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں

تخلیقی جمود، جزوی ہو یا کلی، وہ ایک بنیادی آویزش کا حامل ہوتا ہے۔ یہ کہ مصنف لکھنا چاہتا ہے، مگر لکھ نہیں سکتا۔ لکھنے کی آزرو اور نہ لکھ سکنے کی حقیقت کا ادراک، تصادم انگیز ہوا کرتا ہے۔

مصنف، اس حالت کی کئی توجیہات کرتا ہے۔ وہ کبھی کہتا ہے کہ اس کی ذات میں مستور تخلیق کا سوتا خشک ہوگیا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ عطائے سخن اور الہامِ فن کا سلسلہ موقوف ہوگیا ہے۔

کبھی کہتا ہے کہ فن کی دیوی ا س سے ناراض ہوگئی ہے۔ تخلیقی جمود کی حالت میں تخلیقی فعالیت کی یادمسلسل یلغار کرتی ہے اور فن کار کو تشویش میں مبتلا رکھتی ہے۔

اپنے لکھنے میں تعطل کا تجربہ، مصنفین ہمیشہ کرتے آئے ہیں، مگر تخلیقی جمود یعنی Writers blockکی اصطلاح 1947ء میں آسٹریائی ماہر نفسیات ایڈمنڈ برگلر(Edmund Bergler)(1899ء۔۔ 1962ء) نے وضع کی۔ اس نے تخلیقی جمود کی جڑیں، ایک گہرے نفسیاتی مسئلے میں تلاش کیں۔ اس کے........

© Daily Urdu (Blogs)