menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Masjid, Mimbar Aur Nimazi

31 0
08.08.2026

گزشتہ روز راقم روٹین کے برعکس مسجد میں جمعہ کی نماز باجماعت کھڑی ہونے سے آدھا گھنٹہ قبل مسجد پہنچا۔ مولوی صاحب بڑے جوش و خروش سے وعظ فرما رہے تھے مگر سامعین ایسے غائب تھے کہ جیسے ایسی صورتحال ہو کہ بقول سلیم احمد:

شاید کوئی بندۂ خدا آئے صحرا میں اذان دے رہا ہوں

مسجد میں درجن بھر لوگ تھے۔ جب نماز کا وقت ہونے میں پانچ منٹ باقی تھے تو نمازی حضرات یک دم بھاگے بھاگے آنے لگے کہ جیسے کہیں گاڑی نہ چھوٹ جائے، صفیں کھچا کھچ بھر گئیں۔ یہ سب دیکھ کر پتہ نہیں کہاں سے مجھ میں سوچ پیدا ہوئی کہ جب واعظ شروع ہوا تو مسجد میں درجن بھر لوگ بیٹھے تھے۔ پھر جماعت کا وقت قریب آیا تو اچانک مسجد کے دروازوں سے نمازیوں کی ایسی آمد شروع ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے صفیں بھر گئیں۔ ایسا کیوں؟

نماز کے لیے تو سب حاضر لیکن مولوی کی تقریر سماعت فرمانے کے لیے چند ہی بندے کیوں؟ کیا مذھب یا دین کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق بھی اب شارٹ کٹ ہوگیا ہے۔ فرض ادا کرو، سلام پھیرو اور اگلے کام کو نکلو۔ اگر یہ شارٹ کٹ ہے تو اسکی وجہ کیا ہے؟ شاید وجہ بھی خود مولوی ہی ہے جس نے لوگوں کو شارٹ کٹ کا چسکہ لگوایا یہ گردان کرکے کہ فلاں سورت یا دعا یا وظیفہ اتنی مرتبہ پڑھنے سے اتنے سالوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔۔ ستر ہزار نیکیاں ملتی ہیں۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب دیکھتے ہوئے مجھے سن اسی کی دہائی کے اپنے پنڈ کی مسجد یاد آ گئی۔ اُس زمانے میں منظر بالکل الٹ ہوتا تھا۔ جمعہ کا دن آتا تو لوگ واعظ شروع ہونے سے کافی پہلے مسجد پہنچ جاتے۔ مولوی صاحب کے بیان شروع کرنے سے قبل مسجد بھر جاتی تھی۔ بزرگ آگے، نوجوان پیچھے، بچے اِدھر اُدھر اور کچھ ایسے حضرات بھی جو صرف یہ دیکھنے آتے تھے کہ آج مولوی صاحب نے کون سا نیا قصہ سنانا ہے۔ تب جماعت کھڑی........

© Daily Urdu (Blogs)