menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hukumat Ka Naya Farman

17 0
previous day

وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت مخالف بیانیے کی تشہیر، جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے حکومت یا اداروں کو بدنام کرنے، سرکاری معلومات کے غیر مجاز استعمال اور سرکاری اکاؤنٹس کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنے پر کارروائی کی جائے گی۔

بظاہر تو یہ فیصلہ نظم و ضبط، سرکاری رازوں کے تحفظ اور سرکاری ملازمین کی غیر جانب داری کے نام پر درست دکھائی دیتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری ملازم نے حکومت سے ملازمت کا معاہدہ کیا ہے یا اپنی زبان، ضمیر اور اظہارِ رائے بھی سرکار کے پاس جمع کرا دی ہے؟

یہ درست کہ سرکاری ملازم اپنے عہدے، سرکاری معلومات اور سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی سرکاری ملازم سرکاری راز سوشل میڈیا پر اچھالتا ہے، جعلی شناخت سے کسی ادارے کے خلاف مہم چلاتا ہے یا سرکاری اکاؤنٹ کو اپنی ذاتی تشہیر کا ذریعہ بناتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن گڑ بڑ تب پیدا ہوتی ہے جب حکومت اور ریاست کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جائے اور حکومتی پالیسی سے اختلاف کو ریاست دشمنی کا رنگ دے دیا جائے۔ حالانکہ حکومت اور ریاست دو الگ چیزیں ہیں۔

پاکستان ایک ریاست ہے جبکہ وفاقی حکومت اس ریاست کا انتظام چلانے والی موجودہ انتظامیہ ہے۔ حکومتیں انتخابات کے ذریعے آتی اور جاتی رہتی ہیں لیکن ریاست قائم رہتی ہے۔ اسے اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ڈیلی اردو کالمز ڈاٹ کام کا منشور، عمارت، نظام، بلاگرز کے لیے قوانین و ضوابط اور ویب سائٹ اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور اسے ہم ریاست تصور کر سکتے ہیں۔ چیف ایڈیٹر، موڈریٹرز، آفس بوائے اور انتظامیہ کو حکومت تصور کر لیتے ہیں اور یہ کسی بھی وجہ سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

اسی طرح پاکستان کی ریاست اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ ریاست میں تعلیمی ادارے، عدالتیں، افواج، پولیس، نادرا، واسا، واپڈا، صحث کے مراکز، ستھرا پنجاب۔۔ جیسے ادارے آتے ہیں اور ان کو چلانے والی حکومت ہوتی ہے جو کہ تبدیل ہوتی رہتی ہے کبھی عدم اعتماد کی تحریک کی بدولت، کبھی توھین عدالت کی وجہ سے، کبھی مدت پوری کرنے پر اور........

© Daily Urdu (Blogs)