Yasin Malik: Tihar Jail Se Hurriyat Ka Halfiya Elan
یاسین ملک: تہاڑ جیل سے حریت کا حلفیہ اعلان
تحریکِ آزادی کشمیر کی تاریخ بے شمار لہو رنگ اور استقامت بھرے ابواب سے مزین ہے، جہاں تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل پامالی کی صورت میں آج بھی انسانی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ اس طویل اور کٹھن جدوجہد میں محمد یاسین ملک کا نام ایک ایسی فکری، سیاسی اور استقامت کی علامت کے طور پر ابھرتا ہے جنہوں نے کشمیری قوم کے مؤقف کو دنیا بھر میں باوقار انداز میں روشناس کرایا۔
نوے کی دہائی کے اوائل میں جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلح جدوجہد اپنے عروج پر تھی، یاسین ملک نے زمینی حقائق، عالمی سفارت کاری اور عوامی مفادات کا گہرا ادراک کرتے ہوئے ایک دور رس اور جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے مسلح جدو جہد کے راستے سے انحراف کرتے ہوئے پُرامن، جمہوری اور سیاسی مزاحمت کا راستہ اپنایا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پلیٹ فارم سے انہوں نے کشمیری عوام کی مرضی اور امنگوں کے مطابق ایک منصفانہ، پُرامن اور تمام فریقین کی شمولیت والے سیاسی حل کا بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ لیکن بھارتی ریاست نے ہمیشہ کی طرح ہندوتوا سوچ اور فاشسٹ ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہوئے اس پُرامن آواز کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
پانچ اگست 2019ء کے غیر آئینی اور غاصبانہ اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جبر کی جو سیاہ تاریخ رقم کی گئی، اس نے ریاست کے دعوؤں کی تمام دھجیاں بکھیر دیں۔ یاسین ملک کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، جہاں مئی 2022ء میں ایک نام نہاد عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ دراصل بھارتی ریاستی تعصب اور تعفن زدہ نظامِ عدل کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کا مقصد ہر اس آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا ہے جو کشمیر کے حقِ خودارادیت کی بات کرتی ہے۔
موجودہ صورت حال اس وقت ایک انتہائی دردناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں بھارتی عدلیہ کا تعصب اور ظلم اپنے گھناؤنے ترین روپ میں سامنے آ چکا ہے۔ حال ہی میں ہندوستان کی........
