Riaz Ki Salamti, Washington Ka Inkar, Islamabad Ka Imtihan
ریاض کی سلامتی، واشنگٹن کا انکار، اسلام آباد کا امتحان
پچھلی نصف صدی کے دوران مشرق وسطیٰ بالخصوص خطے کے سب سے بڑے معاشی اور رقبے کے حامل ملک سعودی عرب کی سلامتی کا سارا معماری نظام ایک طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری پر کھڑا تھا۔ ایک معاہدے کے تحت واشنگٹن نے مملکت کو بیرونی خطرات کے خلاف فولادی سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے بدلے میں عالمی توانائی کی مارکیٹ میں تیل کی بلا تعطل رسد اور امریکی معیشت کے استحکام کو یقینی بنایا گیا تھا۔
اس طویل عرصے کے دوران سعودی عرب نے سینکڑوں ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی اسلحہ خریدا، اس امید پر کہ کڑے وقت میں یہ سپر پاور اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مفادات کا کینوس بدلتا ہے، پرانے اتحادیوں کے وعدوں کا رخ بھی مڑ جاتا ہے۔ آج سعودی عرب اپنی تاریخ کے شاید سب سے سنگین قومی سلامتی، معاشی تعطل اور سیاسی توازن کے امتحان سے گزر رہا ہے، جہاں نہ صرف اس کی پچاس سالہ دفاعی انحصار کی پالیسی بری طرح ٹوٹ چکی ہے بلکہ خطے کی نئی جغرافیائی سیاست ایک خونریز موڑ پر آ پہنچی ہے۔
موجودہ بحران کسی ایک محاذ تک محدود نہیں بلکہ اس کے دائرے نے سعودی معیشت، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سرحدی سلامتی کو بیک وقت اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک جانب خلیج میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے آبی راستوں پر منڈلاتے خطرات نے سعودی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے، تو دوسری جانب یمنی سرحد سے اٹھنے والے........
