Khawateen Hujjaj 44 Feesad, Khawateen Khuddam Feesad: Ye Tanasub Kyun?
خواتین حجاج 44 فیصد، خواتین خدام 3 فیصد: یہ تناسب کیوں؟
ہر سال جب لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی عازمینِ حج ارضِ مقدس کا رخ کرتے ہیں، تو ان کی صحت، سفر، رہائش، عبادات کی درست رہنمائی اور مشکلات کے حل کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور اس کے متعلقہ اداروں کے شانے پر آن پڑتی ہے۔ دنیا کے اس سب سے بڑے اور کثیر التعداد سالانہ مذہبی اجتماع کو پُرامن، باوقار اور منظم انداز میں سنبھالنا کوئی معمولی چیلنج نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حج انتظامات میں جدید ترین ٹیکنالوجی، شفافیت اور سائنسی حکمتِ عملی کو شامل کرنا ایک ناگزیر قومی ضرورت بن چکا ہے۔
اگر ہم گزشتہ چند دہائیوں کے روایتی انتظامی ڈھانچے کا موازنہ حال ہی میں متعارف کروائی گئی اصلاحات سے کریں، تو یہ بات کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑے گی کہ پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے حج آپریشنز کو شفاف، میرٹ پر مبنی اور ڈیجیٹلائز بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ سفارشی کلچر، بے نظمی اور بے تدبیری کے ماضی کے داغوں کو دھونے کے لیے جو اصلاحاتی اقدامات کیے گئے، ان کے مثبت نتائج اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ سال 2026ء کے حج آپریشن کا احاطہ کیا جائے تو پاکستان کی انتظامی کارکردگی کا اعتراف خود سعودی حکومت کی جانب سے کیا گیا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کے مطابق، پاکستان کو سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی طرف سے مسلسل دوسری مرتبہ ایکسیلنس ایوارڈ (Excellence Award) سے نوازا گیا، جبکہ نجی حج آپریٹرز نے بھی بہترین خدمات کے اعتراف میں تین باوقار اعزازات اپنے نام کیے۔ مزید برآں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے جولائی 2026ء میں منظور کی جانے والی چار سالہ حج پالیسی 2027ء تا 2030ءنے اس بات کا واضح اشارہ دیا کہ حکومتِ پاکستان اب قلیل مدتی اور ہنگامی اقدامات کے بجائے ایک پائیدار، شفاف اور میرٹ پر مبنی طویل مدتی فریم ورک قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
لیکن اس وقت 2027ء کے آنے والے حج آپریشن اور اس کی پالیسی کے حوالے سے ایک ایسا سنجیدہ اور معقول سوال سامنے آ رہا ہے، جو خواتین خدام الحجاج کے لیے مقرر کیے گئے محض 3 فیصد کوٹے سے متعلق ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے اپنے فراہم کردہ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرنے........
