menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

District Press Club Rahimyar Khan Aik Qabil e Taqleed Model

30 0
11.08.2026

ڈسٹرکٹ پریس کلب رحیم یار خان ایک قابلِ تقلید ماڈل

صحافتی ادارے حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے اور سماجی انصاف کی فراہمی کے لیے ایک توانا اور بیدار آواز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ پریس کلب بنیادی طور پر اسی فکری جدوجہد کا مرکز اور صحافیوں کی اجتماعی قوت، وقار اور یکجہتی کی علامت ہوتے ہیں، جہاں اہل قلم اکٹھے بیٹھ کر معاشرتی ناہمواریوں پر بحث کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم پاکستان کی سماجی اور تنظیمی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر قومی اداروں کی طرح ہمارے بیشتر صحافتی ادارے اور پریس کلب بھی طویل عرصے تک اندرونی دھڑے بندیوں، ذاتی اناؤں اور بے سود تنازعات کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب (رجسٹرڈ) رحیم یار خان کا ماضی بھی اس تلخ حقیقت سے الگ نہیں تھا۔ گزشتہ دہائیوں میں یہ اہم ادارہ باہمی کھینچ تان، گروہ بندی اور انتظامی جمود کی زد میں رہا، جس کے نتیجے میں صحافیوں کی اجتماعی فلاح و بہبود اور ادارے کے بنیادی اہداف پسِ پشت چلے گئے تھے۔

سوسائٹی کی تعمیر میں وہ لمحات بہت اہم ہوتے ہیں جب کوئی تعمیری اقدام دیگر اداروں کے لیے ایک چیلنج اور مثبت تحریک کا سبب بنتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے جب سردار ممتاز خان چانگ نے صادق آباد پریس کلب کی تزئین و آرائش کا بیڑا اٹھایا تھا۔ انہوں نے صادق آباد پریس کلب کے مین ہال کو اس کے شایانِ شان اور وقار کے مطابق مرتب و آراستہ کرکے دیا، جس میں عمارت کی جدید تعمیر سے لے کر شاندار فرنیچر اور ایئر کنڈیشنڈ کی انسٹالیشن تک تمام سہولیات شامل تھیں۔ اس پیش رفت پر ہم دوستوں کو بے حد خوشی اور فخر ہوا اور ہم ڈسٹرکٹ پریس کلب (رجسٹرڈ) رحیم یار خان کے صحافیوں کو بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ "ہمارے صادق آباد جیسا شاندار اور مادی سہولیات سے آراستہ پریس کلب تو ڈسٹرکٹ رحیم یار خان کا بھی نہیں........

© Daily Urdu (Blogs)