Muhabbat Jab Riyasat Ban Gayi
دنیا میں دو طرح کی محبتیں ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جو دو دلوں کو ملا دیتی ہے اور دوسری وہ جو پوری قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ پہلی محبت شاعروں کے دیوانوں میں زندہ رہتی ہے جبکہ دوسری تاریخ کی کتابوں میں۔ پہلی محبت کے انجام پر لوگ آہیں بھرتے ہیں اور دوسری محبت آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتی ہے۔ دنیا نے رومیو اور جولیٹ کی کہانی بھی پڑھی، لیلیٰ مجنوں کا قصہ بھی سنا، شہزادہ ایڈورڈ ہشتم کو بھی دیکھا جس نے محبت کی خاطر برطانوی تخت چھوڑ دیا، لیکن بیسویں صدی کی ایک محبت ایسی بھی تھی جس کے خلاف پوری دنیا کھڑی ہوگئی۔ ایک طرف افریقہ کا سیاہ فام شہزادہ تھا، دوسری طرف برطانیہ کی سفید فام لڑکی۔ رنگ الگ، نسل الگ، مذہبی اور ثقافتی ماحول الگ، براعظم الگ اور دنیا کی سیاست بھی ان دونوں کے خلاف۔ لیکن یہ دونوں ہارے نہیں اور پھر ایک دن یہی جوڑا افریقہ کے کامیاب ترین ملک کی بنیاد رکھنے والا ثابت ہوا۔ یہ کہانی ہے سیرتسے خاما اور روتھ ولیمز خاما کی۔
سیرتسے خاما یکم جولائی 1921ء کو افریقہ کے اس خطے میں پیدا ہوئے جو اس وقت بچوانالینڈ کہلاتا تھا اور آج بوٹسوانا کے نام سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ وہ عام خاندان میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ان کے دادا کگاما سوم بامانگواٹو قبیلے کے عظیم حکمران تھے جبکہ والد سیکگوما دوم بھی اسی قبیلے کے سربراہ تھے۔ سیرتسے ابھی چار سال کے تھے کہ والد انتقال کر گئے۔ یوں ایک ننھا بچہ قبیلے کا وارث بن گیا۔ عملی حکومت ان کے چچا تشیکھیدی خاما نے بطور نگران سنبھال لی، لیکن سب جانتے تھے کہ اصل وارث یہی بچہ ہے۔
دوسری طرف برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں 9 دسمبر 1923ء کو ایک بچی پیدا ہوئی جس کا نام روتھ ولیمز رکھا گیا۔ وہ ایک متوسط مگر مہذب برطانوی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد فوج میں خدمات انجام دیتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم نے لاکھوں خاندانوں کی طرح ان کے خاندان کو بھی متاثر کیا۔ روتھ کے والد جنگ میں مارے گئے۔ ماں نے بڑی محنت سے بیٹی کی پرورش کی۔ روتھ نے اچھی تعلیم حاصل کی، سیکرٹری کی ملازمت اختیار کی اور ایک عام برطانوی نوجوان خاتون کی طرح مستقبل کے خواب دیکھنے لگیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ تقدیر نے ان کے لیے لندن نہیں بلکہ ہزاروں میل دور افریقہ لکھ رکھا ہے۔
سیرتسے........
