menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Macron Ka Bosa

22 0
19.04.2026

پیرس کی فضا میں ہلکی سی بہار گھلی ہوئی تھی۔ فرانس کے صدارتی محل Élysée Palace کی سیڑھیوں پر سرخ قالین بچھا تھا اور فرانسیسی گارڈز اپنی روایتی وردیوں میں ملبوس مستعد کھڑے تھے۔ اسی لمحے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون دروازے سے باہر آئے سفید کرکرا شرٹ، سیاہ ٹائی اور گہرے نیوی بلیو سوٹ میں ملبوس۔ چند لمحوں بعد سیڑھیوں پر ایک اور منظر ابھرا، اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی اطالوی سرخ پینٹ سوٹ، سفید شرٹ میں ملبوس، جس کی چمک پیرس کی روشنی میں اور نمایاں ہو رہی تھی۔ یہ لباس صرف فیشن نہیں تھا بلکہ ایک علامت تھا اعتماد، طاقت اور سیاسی شناخت کی۔

میلونی قدم بہ قدم سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں اور میکرون ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے سوشل میڈیا کو فوری طور پر متحرک کر دیا۔ میکرون نے روایتی فرانسیسی انداز میں میلونی کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔ ایک لمحے کے لیے میلونی کے چہرے پر ہلکی سی حیرت ابھری، آنکھوں میں سوال، چہرے پر معمولی جھجک، لیکن اگلے ہی لمحے وہ مسکرا دیں۔ یہی مختصر سا لمحہ عالمی میڈیا کی شہ سرخی بن گیا۔

یورپ میں اس قسم کی گرمجوشی کو "لا بیز" کہا جاتا ہے، جو ایک سماجی روایت ہے۔ فرانس، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک میں یہ معمول کا حصہ ہے، جہاں گالوں پر بوسہ احترام اور دوستانہ تعلق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی روایت سفارتی پروٹوکول میں داخل ہوتی ہے تو اس کے معنی زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

تاریخ میں ایسے بے شمار مواقع ملتے ہیں جہاں مرد حکمرانوں اور خواتین رہنماؤں کے درمیان یا عمومی طور پر عالمی رہنماؤں کے درمیان جسمانی زبان نے سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر 2025ء میں مصر میں ہونے والے ایک امن اجلاس کے دوران جارجیا میلونی کی ملاقات ترک........

© Daily Urdu (Blogs)