Qustuntunia Ka Roomi Nazad General
قسطنطنیہ کا رومی نژاد جرنیل
باہر گینٹسا (Giannitsa) کی گلیوں پر رات کا سکوت طاری ہے اور اس خانقاہ کے دالان میں جلتی ہوئی شمع کی مدہم لو میرے سامنے لٹکی ہوئی اس پرانی رومی تلوار پر پڑ رہی ہے جس کی ساخت عثمانی شمشیروں سے بالکل مختلف ہے۔ میں اپنے بستر پر لیٹا اپنی ضعیف، کانپتی ہوئی انگلیوں سے سفید داڑھی کو چھو رہا ہوں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میری عمر ایک سو بیس سال سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ میں نے عثمانی خاندان کے ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ چار سلاطین (اورخان غازی، مراد اول، بایزید یلدرم اور محمد اول) کا دورِ حکومت اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ میری ہڈیاں اب جواب دے رہی ہیں اور زندگی کا یہ طویل ترین بحری و زمینی سفر اب اپنی آخری منزل کے قریب ہے۔
لوگ مجھے بلقان کا سب سے بڑا غازی، عثمانی فتوحات کا ہراول دستہ (Vanguard) اور اک بائی (Akıncı) مہم جوؤں کا دادا کہتے ہیں۔ لیکن اس وقت، جب یونان کی یہ مٹی میری آخری آرام گاہ بننے کے لیے تیار ہے، میرا ذہن ماضی کے ان دھندلکوں میں جا رہا ہے جب میرا نام کچھ اور تھا، میرا دین کچھ اور تھا اور میں قسطنطنیہ کے رومی شہنشاہ کے لیے تلوار اٹھایا کرتا تھا۔
میری کہانی کا آغاز اناطولیہ اور یورپ کی سرحد پر واقع ایک بازنطینی کچے قلعے میں ہوا تھا۔ میں کوئی پیدائشی ترک یا مسلمان نہیں تھا۔ میرا خاندان رومی (Byzantine) نژاد تھا اور میرا اصل نام بازنطینی تاریخ کے صفحات میں درج تھا۔ میرے والد خود ایک رومی گورنر اور وڈیرے تھے اور میں نے بچپن ہی سے رومی فوج کی عسکری مہارت، ان کے قلعوں کے دفاع اور ان کی جنگی چالوں کو بہت قریب سے سیکھا تھا۔
لیکن اس دور میں، بازنطینی سلطنت اندرونی طور پر سست اور اخلاقی طور پر تباہ ہو رہی تھی۔ امراء عیاشی میں مست تھے اور غریب کسانوں کا خون چوس رہے تھے۔ اس کے برعکس، جب میں نے سرحد پار بنو عثمان کے غازیوں کو دیکھا، ان کا نظم و ضبط، ان کا عدل، ان کا ایک خدا کے........
