Adrianople Ka Pehla Sultan
ایڈریانوپل کا پہلا سلطان
باہر کوسوو کے وسیع میدان پر رات کی سیاہی پھیل چکی ہے اور میرے خیمے کے پردے کو چاک کرتی ہوئی جو ٹھنڈی ہوا اندر آرہی ہے، اس میں خون کی نمکین بو اور بارود کا دھواں رچا ہوا ہے۔ میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں اور میرا یہ تپتا ہوا جسم گواہی دے رہا ہے کہ میری سانسوں کی ڈور اب چند لمحوں کی مہمان ہے۔ میری چھاتی پر ایک سربین خنجر کا گہرا زخم ہے، جہاں سے میرا خون آہستہ آہستہ بہہ کر اس مٹی کو سیراب کر رہا ہے جسے میں نے ابھی چند گھنٹے پہلے ایک تاریخی معرکے میں جیتا ہے۔
لوگ مجھے تاریخ کا وہ پہلا امپائر کہیں گے جسے باقاعدہ "سلطان" کا خطاب ملا، وہ شخص جس نے اناطولیہ کے غازیوں کو بلقان (The Balkans) کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔ لیکن اس وقت، جب میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا ہے، میرا ذہن اس خونی میدانِ جنگ سے دور، برسا کے ان پرسکون دالان اور اپنے والد اورخان غازی کے ان جملوں کی طرف جا رہا ہے جنہوں نے میرے اندر ایک عالمگیر سلطنت کا عزم بیدار کیا تھا۔
میری پیدائش سنہ 1326 عیسوی میں ہوئی، اسی سال جب میرے والد نے برسا کو فتح کرکے عثمانیوں کا پہلا مستقل دارالحکومت بنایا تھا۔ میں نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں ہر دن ایک نئی مہم کا پیش خیمہ ہوتا تھا۔ میرے والد اورخان اور میرے بڑے بھائی سلیمان پاشا نے یورپ کا دروازہ (گلی پولی) کھول دیا تھا، لیکن جب سنہ 1362 عیسوی میں میرے والد کا انتقال ہوا اور میرے بھائی ایک حادثے میں شہید ہو گئے، تو سلطنت کی پوری ذمہ داری میرے کندھوں پر آ گئی۔
تخت پر بیٹھتے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ صرف فتوحات کافی نہیں ہیں، ایک خانہ بدوش قبیلے کو امپائر بنانے کے لیے لوہے کے قوانین اور ایک مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے اپنے والد کے ادور میں شروع ہونے والی عسکری اصلاحات کو پایہِ تکمیل تک پہنچایا۔ میں نے دیوانِ ہمایوں (شاہی کونسل) کو منظم کیا، قاضی عسکر (فوجی جج) کا عہدہ تخلیق کیا اور مالاکان اور بربر جنگجوؤں کے بجائے ایک انتہائی وفادار، منظم اور زرہ پوش پیادہ دستہ تیار کیا جسے دنیا نے "ینگ چری" (Janissary Corps) کے نام سے جانا۔ یہ وہ لڑکے تھے جن کا کوئی خاندان، کوئی قبیلہ نہیں تھا، ان کا صرف ایک ہی باپ تھا، یعنی میں، ان کا سلطان۔ ان کے لوہے جیسے ڈسپلن نے مجھے وہ طاقت دی........
