Riwayati Factory Se Technology Ke Markaz Tak Ka Safar
روایتی فیکٹریوں سے ٹیکنالوجی کے مرکز تک کا سفر
دنیا بھر کے بڑے مالیاتی اور مشاورتی ادارے آج کل چین کی صنعتی تبدیلی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق چین جس طرح اپنی مینوفیکچرنگ کو زیادہ سمارٹ، سرسبز اور مربوط بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، اس سے پوری عالمی معیشت کو بھی نئی توانائی مل رہی ہے۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں اسمارٹ مینوفیکچرنگ کی، جہاں چین نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو صنعتی شعبے میں تیزی سے اپنایا ہے۔
صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کی بنیادی مصنوعی ذہانت کی صنعت کا حجم 1.2 ٹریلین یوان، یعنی تقریباً 167 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ صنعتی انٹرنیٹ اب ملک کی تمام 41 بڑی صنعتی اقسام تک پھیل چکا ہے جبکہ ملک بھر میں 500 سے زائد اعلیٰ معیار کی اسمارٹ فیکٹریاں تیار کی جا چکی ہیں۔ گولڈمین کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی کمپنیوں کی بیرون ملک توسیع اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں برآمد کنندگان اب مصنوعی ذہانت پر مبنی صنعتی صلاحیتیں بھی فروخت کر رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت اور ہیومینائیڈ روبوٹس جیسے جدید شعبے بھی تجارتی استعمال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
گولڈمین کے ایک صنعتی تحقیقی ماہر کے مطابق جب انہوں نے کئی مقامی ہیومینائیڈ روبوٹس........
