menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Talaba Union Aur Sindh High Court Ka Faisla

16 2
29.01.2026

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کرنا محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کے تعلیمی، سیاسی اور آئینی ڈھانچے پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن کے ریمارکس کہ "تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟" بظاہر سخت ضرور محسوس ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں پاکستان کی عدالتی تاریخ اور زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ غیر معمولی نہیں بلکہ تسلسل کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب سندھ میں سندھ سٹوڈنٹ یونین ایکٹ، 2022 موجود ہے تو پھر عدالت نے طلبہ یونین کے اغراض و مقاصد پر سوال کیوں اٹھایا؟

اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ عدالت محض قانون کی موجودگی نہیں دیکھتی بلکہ اس کے عملی نتائج، سماجی اثرات اور آئینی مطابقت کو بھی جانچنے کی پابند ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر پاکستان کی سپریم کورٹ ماضی میں طلبہ یونین کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کر چکی ہے۔

1993 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے طلبہ یونینز اور طلبہ تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق ایک اہم فیصلے میں اس امر کی توثیق کی تھی کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد تعلیم ہے، نہ کہ سیاسی تربیت یا طاقت کا مظاہرہ۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس فیصلے میں........

© Daily Urdu (Blogs)