menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Joota Khati Riaya, Hazar Rupay Liter Petrol

8 0
latest

جوتا کھاتی رعایا، ہزار روپے لیٹر پٹرول

ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر شاہراہوں سے گزرنے کا ٹیکس نافذ کر رکھا تھا۔ عوام ٹیکس ادا کرتی اور خاموشی سے اپنے سفر پر روانہ ہوجاتی۔ دربار کے ایک ذہین وزیر نے مشورہ دیا کہ صرف ٹیکس وصول کرنا کافی نہیں، عوام کی وفاداری جانچنے کے لیے ہر گزرنے والے کو ایک جوتا بھی رسید کیا جائے۔ حکم صادر ہوا اور رعایا ٹیکس بھی دیتی رہی اور جوتے بھی کھاتی رہی۔ جو شخص اعتراض کرتا وہ باغی قرار پاتا اور جو خاموش رہتا وہ محبِ وطن کہلاتا۔ ایک روز بادشاہ سلامت گشت پر نکلے تو ٹال پلازے پر غیرمعمولی ہجوم دیکھا۔ سمجھے شاید رعایا ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ عوام کا مطالبہ یہ نہیں کہ جوتے مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ جوتے مارنے والے ملازمین کی تعداد بڑھائی جائے کیونکہ ایک ملازم کے باعث لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ بادشاہ سلامت رعایا کی فرمانبرداری پر اس قدر خوش ہوئے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد پانچ کردی اور ساتھ ہی ٹال ٹیکس میں پچاس فیصد اضافہ بھی فرما دیا۔ سچ پوچھئے تو یہ کہاوت اب قصہ نہیں رہی، پاکستان کی معاشی اور سیاسی تاریخ کا خلاصہ بن چکی........

© Daily Urdu (Blogs)